پولیس کانسٹیبل کی مستی کی پاٹھ شالہ

دہلی کے انتہائی مصروف نظام الدین ریلوے سٹیشن سے اگر آپ کبھی گزریں تو آپ کو سات آٹھ معصوم بچے اپنی کتاب کاپیوں پر نظریں جمائے نظر آئیں گے۔ یہ پلیٹ فارم ہی ان کا سکول بھی ہے اور تربیت گاہ بھی۔

یہ سکول روزانہ صرف ایک گھنٹے کے لیے لگتا ہے، اور اس کے واحد ٹیچر پولیس کانسٹیبل دھرم ویر سنگھ ہیں۔ وہ یہاں سکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں، مسافروں پر بھی نظر رکھتے ہیں اور ان بچوں پر بھی۔

’یہ بچے بہت غریب اور مجبور ہیں انہیں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوتا تھا کہ انہیں تو سکول میں ہونا چاہیے، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں انہیں کچھ دیر کے لیے پڑھانا شروع کر دوں، لیکن یہ پولیس کو دیکھ کر بھاگ جاتے تھے، بہت مشکل سے میں نے انہیں پڑھنے پر مائل کیا، اب یہ خود اپنی مرضی سے روزانہ ایک گھنٹہ میرے پاس پڑھنے آتے ہیں۔‘

یہ بچے پہلے کبھی سکول نہیں گئے۔ دھرم ویر سنگھ کی کوشش ہےکہ انہیں تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا سکھا دیں تاکہ انہیں کسی سکول میں داخل کروایا جاسکے۔‎

’ کچھ گنتی، ہندی اور انگریزی کے بنیادی حروف، ہفتے میں کتنے دن ہیں، سال میں کتنے مہینے۔۔۔بس اتنا ہی، اگر یہ کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کیسے، پڑھیں گے نہیں تو زندگی میں کیا کریں گے؟ ‘

ان میں سے کچھ بچے سٹیشن پر پاپڑ بیچتے ہیں۔ دھرم ویر سنگھ کہتے ہیں ’اگر ان بچوں کو بھگا دیا جائے تو یہ بھوکے رہیں گے، چوری کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ مجھے ان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔‘

ہندوستان کی تقریباً ایک تہائی آبادی بچوں پر مشتمل ہے اور حکومت یہ مانتی ہے کہ ان میں سے تقریباً نصف بچوں کی جسمانی نشوو نما مناسب غذا نہ مل پانے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔

پانچ سے گیارہ سال کی عمر کے تقریباً ایک کروڑ بچے کام کرتے ہیں۔ چار فیصد بچے کبھی سکول نہیں گئے، 58 فیصد پرائمری سکول بھی پورا نہیں کرتے، اور نوے فیصد ہائی سکول سے پہلے ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔

دھرم ویر سنگھ کے ایک شاگرد متھیلیش بھی ہیں۔ ان کے شب و روز ریلوے سٹیشن پر ہی گزرتے ہیں، شاید اپنی پاپڑ کی بڑی سی ٹوکری کے پیچھے آپ کو نظر بھی نہ آئیں۔ عمر کا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے لیکن ان کی کہانی ہزاروں لاکھوں دوسرے غریب بے گھر بچوں کی کہانی ہو سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’میرا گھر بہار میں ہے۔ میں غلطی سے ٹرین میں بیٹھ گیا تھا اور یہاں پہنچ گیا۔ میں اکیلا رہتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ میرا کوئی نہیں ہے، کوئی پریشان کرتا ہے تو میں خاموشی سے برداشت کر لیتا ہوں، بس جو بات ہوتی ہے وہ اپنے دل میں ہی رکھتا ہوں۔‘

لیکن جب سے متھیلیش نے اس کلاس میں آنا شروع کیا ہے، ان کے اندر کچھ اعتماد جاگا ہے، اور زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش بھی۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے یہاں آنا بہت اچھا لگتا ہے، میں پڑھنا اور اپنی زندگی سنوارنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ لوگ میری طرف دیکھیں اور کہیں کہ دیکھوں یہ لڑکا کما کر انسانیت سے اپنا گھر چلا رہا ہے۔‘

ان بچوں کی مشکل زند گی اور تلخ تجربات انہیں شاید وقت سے پہلے ہی بڑا کردیتے ہیں۔ دھرم ویر سنگھ کہتے ہیں ان بچوں کی زندگی میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔

’وہ اب صاف ستھرے رہتے ہیں، بڑوں کا ادب کرنا سیکھ گئے ہیں اور انہیں بھی لگتا ہے کہ پڑھ لکھ کر وہ بھی زندگی میں کچھ کر سکتے ہیں ۔۔۔ اگر ہر پولیس والا دو بچوں کو بھی پڑھائے یا عام لوگ ایک بچے کی بھی مدد کریں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حالات کتنے بدل سکتے ہیں۔‘

دھرم ویر سنگھ کی یہ کلاس تو ختم ہو رہی ہے۔ یہ بچے اپنی پاپڑ کی ٹوکریاں اٹھاکر پھر پلیٹ فارم پر نکل جائیں گے، انہیں اپنی روزی بھی کمانی اور مستقبل بھی سنوارنا ہے، لیکن زندگی کی لمبی دوڑ میں وہ اکیلے ہی بھاگ رہے ہیں۔

بس ہر روز ایک گھنٹا دھرم ویر سنگھ ان کی زندگی کو پٹری پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ’تاکہ انہیں معاشرے میں وہ عزت اور مقام مل سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔‘

اسی بارے میں