ممبئی کی نیندیں اڑانے والا ’وحشی‘ قاتل

تصویر کے کاپی رائٹ Curtsy Lily Kulkarni
Image caption رامن راگھّو نے 41 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا

آج سے تقریباً 50 برس پہلے رامن راگھّو نےممبئی (اس وقت کے بمبئی) کو اس وقت ہلا کر رکھ دیا تھا جب اس نے 41 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اب پھر کچھ لوگوں کو رامن راگھّو کی زندگی میں دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔

دو ہفتے قبل ہی رامن کی زندگی پر مبنی ایک فلم، جو اصل میں سنہ 1991 میں ٹیلی ویژن کے لیے بنائی گئی تھی، اسے عام نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہدایتکار انوراگ کشیپ نے بھی ایک نئی فلم شروع کی ہے جس میں رامن کی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے ممبئی کا سفر کیا اور اس شخص کی زندگی کی کہانی لکھی ہے جسے بدنام زمانہ برطانوی قاتل ’جیک دی رِپر‘ کی نسبت سے بھارت کا ’جیک دی رِپر‘ کہا جاتا ہے۔

رمن راگھّو کا نام لوگوں نے سنہ 1960 کی دہائی میں اس وقت سنا جب اس نے محض تین سال کے عرصے میں ممبئی میں قتل وغارت کا بازار گرم کر دیا اور تمام شہر کی نیند اس کی دہشت کی وجہ سے حرام ہو گئی۔

رامن کا نشانہ بننے والے تمام افراد وہ غریب تھے جو یا تو سڑکوں کے کنارے سوتے تھے یا ممبئی کے شمالی نواح میں کچی بستیوں میں رہتے تھے۔ ان میں مرد، عورتیں، بچے اور حتیٰ کہ شیر خوار بچے بھی شامل تھے۔

سنہ 1968 میں بمبئی پولیس کے شعبۂ جرائم کی باگ ڈور سنبھالنے والے اور پھر 27 اگست سنہ 1968 کو رامن کو گرفتار کرنے والی ٹیم کے سربراہ رماکانت کلکرنی لکھتے ہیں کہ ’ ان لوگوں کو اس وقت نشانہ بنایا جاتا تھا جب وہ سو رہے ہوتے تھے۔ ان تمام افراد کے سر کو کسی سخت اور کند ہتھیار سے کچل کر قتل کیا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Curtsy Lily Kulkarni
Image caption مسٹر کلکرنی سنہ 1990 میں مہاراشٹر پولیس کے سربراہ کی حیثیت میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے تھے

کلکرنی سنہ 1990 میں مہاراشٹر پولیس کے سربراہ کی حیثیت میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے تھے اور پھر سنہ 2005 میں دنیا سے کوچ کر گئے تاہم اس سے پہلے انھوں نے رامن راگھّو کے مشہور معاملے کے حوالے سے دو کتابیں لکھ دی تھیں جن میں انھوں نے رامن کی زندگی کا تفصیلی احاطہ کیا ہے: ’جرائم کی ریت پر پاؤں کے نشان‘ اور ’جرائم، مجرم اور پولیس والے‘۔

رماکانت کلکرنی نے لکھا ہے کہ ’یہ سارے قتل بے مقصد قتل تھے، اور اگر قاتل ان افراد کو قتل کر کے کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا تو تب بھی ان لوگوں کو جس بےدردی سے مارا گیا تھا اسے دیکھیں تو آپ کو لگتا ہے کہ رامن کے ہاتھ اگر کچھ آ بھی رہا تو ان اشیاء کی قیمت کچھ بھی نہیں تھی۔‘

رماکانت کلکرنی کی اہلیہ لِلی کلکرنی کے بقول ہر روز ایک نئے قتل کی خبر کے بعد ممبئی میں یہ افواہیں گردش کرنا شروع ہوگئیں کہ قاتل ’ایک مافوق الفطرت چیز ہے ۔۔۔ جس کی پاس کوئی جادوئی طاقت ہے اور وہ جب چاہتا ہے طوطے یا بلی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔‘ اخبارات نے اسے ’انڈیا کا جیک دی رِپر‘ کہنا شروع کر دیا۔

لِلی کلکرنی کا کہنا تھا کہ ان دنوں دو ہزار پولیس اہلکار شہر کی گلیوں میں گشت پر لگا دیے گئے تھے لیکن پھر بھی شہر خوف کی گرفت میں جکڑا ہوا تھا، خاص طور پر ممبئی کی مضافاتی بستیاں۔

شام ہوتے ہی شہر کے اکثر پارک اور گلیاں ویران ہو جاتی تھیں اور کئی علاقوں کے خوفزدہ رہائشی ڈنڈے اٹھائے گلیوں میں گشت شروع کر دیتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ curtsy lily kulkarni
Image caption راگھّو نے زیادہ تر لوگوں کو لوہے کے ہتھیار سے مارا تھا جو شکل میں انگریزی ہندسے 7 جیسا تھا

ان دنوں میں ایسے کئی واقعات پیش آئے جب گھبرائے ہوئے گروہوں نے شک کی بنیاد پر بےگناہ بھکاریوں اور بےگھر لوگوں کا مار مار کے برا حال کر دیا۔

زیادہ تر قتل دو قطسوں میں ہوئے۔ پہلی مرتبہ سنہ 1965 اور 1966 کے سالوں میں جب 19 افراد پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ان دنوں رامن کو بھی گرفتار کیا گیا جو ایک علاقے میں آوارہ گردی کر رہا تھا، لیکن چونکہ پولیس کو اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، اس لیے اسے رہا کر دیا گیا۔

قتل و غارت کا دوسرا سلسلہ سنہ 1968 میں شروع ہوا اور پھر اسی سال 27 اگست کو مسٹر کلکرنی کی ٹیم کے ایک سب انسپکٹر نے تصاویر اور قاتلانہ حملوں میں بچ جانے والے لوگوں کے بتائے ہوئے حلیے کی بنیاد پر رامن کو شناخت کر لیا۔

مسز کلکرنی بتاتی ہیں کہ ’جوں ہی رامن کی گرفتاری کی خبر آئی، میرے شوہر کے دفتر کے باہر ایک بڑا ہجوم امڈ آیا اور لوگوں نے اس کی گرفتاری پر خوشیاں منائیں۔‘

راگھّو کے بچپن کے بارے میں کسی کو زیادہ معلومات نہیں، تاہم ان دنوں کی خبریں دیکھیں تو ان میں اسے تامل قرار دیا گیا ہے۔ دراز قد اور مضبوط جسم کا مالک شخص، جس کی تعلیم واجبی تھی اور وہ خود بےگھر تھا۔

تفتیش کے دوران بھی وہ ایک ’سخت اخروٹ‘ ثابت ہوا اور دو دن تک اس نے اپنی زبان نہیں کھولی، لیکن آخر کار تیسرے دن پولیس کو کامیابی حاصل ہو گئی۔

مسٹر کلکرنی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ تفتیش کرنے والے اہلکاروں میں سے ایک نے باتوں میں باتوں میں راگھّو سے پوچھا کہ آیا کوئی ایسی چیز ہے جس کی اسے خواہش ہے۔ ایک لمحہ توقف کیے بغیر اس کے منہ سے نکلا ’مرغی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Curtsy Lily Kulkarni
Image caption رامن راگھّو نے زیادہ تر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو بے گھر تھے یا بھکاری تھے

مرغی کا سالن دینے کے بعد اہلکار نے اس سے پھر پوچھا کہ اب اس کی خواہش کیا ہے تو راگھّو کا جواب پھر یہی تھا کہ مجھے مزید مرغی کھانی ہے۔

’مرغی کے بعد راگھّو کی دوسری فرمائش یہ تھی کہ اسے ایک طوائف لا کر دی جائے، لیکن چونکہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ پولیس کی حراست میں کسی شخص کو یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے، اس لیے راگھّو نے سر کے تیل، کنگھی اور شیشے پر ہی اکتفا کیا۔

’اس نے ناریل کے تیل سے اپنے پورے جسم پر مالش کی، تیل کی خوشبو کی تعریف بھی کی، اپنے بالوں میں کھنگی کی اور پھر فخریہ انداز میں آئینے میں اپنا چہرہ بھی دیکھا۔

پھر اس نے پولیس سے پوچھا کہ وہ اس سے کیا چاہتی ہے۔

’ہم ان قتلوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جو تم نے کیے ہیں‘ ایک افسر نے کہا۔

’اگر آپ کی یہی خواہش ہے تو میں آپ لوگوں کو سب کچھ بتا دوں گا۔‘

اس کے بعد وہ پولیس اہلکاروں کو لیکر ’آرے کالونی‘ میں اس جگہ لے گیا جس اس نے اپنے ہتھیار چھپا رکھے تھے۔ لوہے کی ایک موٹی سلاخ، کچھ چھُرے اور دیگر ہتھیار۔

میجسٹریٹ کے سامنے راگھّو نے اعتراف کیا کہ اس نے 41 قتل کیے تھے، تاہم پولیس کا خیال تھا کہ راگھّو کا نشانہ بننے والے لوگوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔

Image caption مسز لِلی کلکرنی کے بقول ان دنوں تمام شہر پر خوف چھایا ہوا تھا

اپنے اعترافی بیان میں اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے تمام قتل ارادی طور پر کیے اور ’خدا‘ نے اُسے ایسا کرنے کو کہا تھا۔

عدالت میں راگھّو کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کا ذہنی توازن درست نہیں اور اسے معلوم نہیں تھا کہ لوگوں کو قتل کرنا ’غلط ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘

لیکن سرکاری سرجن کی رائے تھی کہ راگھّو کو نہ تو ’ کوئی نفسیاتی عارضہ ہے اور نہ ہی اس کا ذہنی توازن خراب ہے۔‘

عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی

اپنے فیصلے میں راگھّو کے بارے میں جج سی ٹی ڈگھے کا کہنا تھا کہ اس ’شخص کا دماغ خراب ہے۔ یہ انتہائی مکار شخص ہے جو کہ بدچلن ہے یا وحشیانہ دماغ کا حامل ہے۔‘

جج کا کہنا تھا کہ جن جرائم کا ارتکاب راگھّو نے کیا ہے ’ان جرائم میں جس بے رحمی اور وحشیانہ پن کا اظہار کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔‘

ان دنوں کے اخبارات بتاتے ہیں کہ فیصلے کے بعد جب راگھّو کو عدالت سے باہر لے جایا گیا تو وہاں کھڑے ہوئے ہجوم نے اس پر آوازے کسے اور سیٹیاں بجائیں، لیکن راگھّو نے بھی پوری توانائی کے ساتھ اسی زبان میں ہجوم کو جواب دیا۔

بہیمانہ جرائم کے ارتکاب کرنے کے باوجود اور اس حقیقت کے باوجود کہ راگھّو نے اپنی سزائے موت کے خلاف کوئی اپیل بھی نہیں کی تھی، وہ پھانسی کے پھندے سے بچنے میں کامیاب رہا۔

میجسٹریٹ کے فیصلے کی توسیع کی ذمہ داری ہائیکورٹ پر تھی۔ جب اس کی سزائے موت کا معاملہ ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوا تو تین ماہرین نفسیات کے ایک پینل نے کہا کہ راگھّو ذہنی اتنشار کے عارضے میں مبتلا ہے اور اسے وہم کی بیماری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ’ناقابلِ علاج ذہنی امراض‘ کا شکار ہے۔

ماہرین کی اس رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا۔

مسز کلکرنی نے بتایا کہ ’میرے شوہر کو بہت سارے لوگوں، خاص طور پر خواتین کی طرف سے کالیں موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ آخر راگھّو کو پھانسی کیوں نہیں دی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Cutsy Lily kulkarni
Image caption راگھّو نے جن لوگوں کو قتل کیا ان کے پاس سے جو اشیاء چرائیں ان میں ایک عینک، ایک پرانی چتھری، ایک چُولہا، ایک پرانی گھڑی اور ایک مرتبان شامل تھا

فیصلے کے بعد راگھّو کو پُونے کی یروادا جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

سنہ 1987 میں، جب وہ 18 سال قیدِ تنہائی میں گزار چکا تھا، ہائی کورٹ نے راگھّو کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا اور پھر اُسی سال گردے کے عارضے کے باعث اس کی موت ہو گئی۔

آج پچاس برس گزر جانے کے بعد ممبئی کے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ رمن راگھّو کون تھا۔

شاید یہ دونوں فلمیں اس نفسیاتی مریض کی زندگی میں لوگوں کی دلچسپی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیں جس نے ایک زمانے میں پورے شہر میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔

اسی بارے میں