زخمی جنگجوؤں کے علاج پر سزا نہیں دی جا سکتی: ایم ایس ایف رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption حملے کے وقت ہسپتال میں موجود 105 مریضوں میں سے تین حکومتی سپاہی تھے جبکہ 20 زخمی طالبان تھے

بین الاقوامی تنظیم میدساں سانز فرنتیئر (ایم ایس ایف) نے قندوز میں اپنے ہسپتال پر حملے کی ابتدائی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طبی عملے کو جنگجوؤں کا علاج کرنے کی سزا نہیں دی جا سکتی اور اس بات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں موجود ہسپتالوں پر حملے نہ کیے جائیں اور جنگجوؤں کو بلا امتیاز علاج فراہم کیا جائے۔

اوباما کی معافی

ایم ایس ایف کے ہسپتال پر امریکہ نے تین اکتوبر کو حملہکیا تھا۔

13 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شب دو بجے حملے کا آغاز ہوا۔ کابل میں ایم ایس ایف کے دفتر کو قندوز پر حملے کی اطلاع رات دو بج کر 19 منٹ پر دی گئی تھی۔ تین بج کر18 منٹ تک تنظیم کے حکام اور متعلقہ اداروں سمیت امریکی دفاعی حکام کو حملے کی خبر مل چکی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے کے وقت ہسپتال میں 105 مریض موجود تھے۔ جن میں تین حکومتی سپاہی تھے جبکہ 20 زخمی طالبان تھے۔ مقامی سٹاف کی تعداد 140 تھی جبکہ بین الاقوامی سٹاف کے نو اراکین موجود تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ آئی سی یو ہی میں کیا گیا جہاں موجود مریض اپنے بستروں پر ہی جل کر ہلاک ہو گئے۔ آپریشن تھیئٹر میں موجود دو مریض بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSF
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے عملے میں سے کسی بھی شخص نے یہ نہیں بتایا کہ وہاں کوئی مسلح جنگجو موجود تھا یا اس نے امریکی حملے سے پہلے یا اس دوران لڑائی کی

ہسپتال کے عملے کے اراکین نے اپنے بیانات میں بتایا کہ امریکی حملہ آور جہاز سے زمین پر موجود افراد کو براہ راست نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا۔ حملے کے بعد تصاویر کے جائزےاور سٹاف کے بیانات سے یہ بات واضح ہے کہ حملے کا بنیادی مرکز ہسپتال ہی تھا۔ اس کے علاوہ ایم ایس ایف کے پورے کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے عملے میں سے کسی بھی شخص نے یہ نہیں بتایا کہ وہاں کوئی مسلح جنگجو موجود تھا یا اس نے امریکی حملے سے پہلے یا اس دوران لڑائی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تنظیم کی جانب سے اسلحہ نہ رکھے جانے کی پالیسی سمیت تمام قوانین لاگو تھے: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان کی کل تعداد 30 ہے جن میں دس مریض اور 13 عملے کے اراکین کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے تاہم سات ایسی لاشیں تھیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہوئی۔

دو مریض اور ہسپتال کے عملے کا ایک رکن اب بھی لاپتہ ہیں۔ تین سے چار بجے تک ہسپتال کا عملہ کمپاؤنڈ کے ان حصوں میں رہا جہاں انھوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

صبح پانچ بج کر 45 منٹ پر محکمہ صحت کی ایمبولینسیں مدد کے لیے پہنچیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسی وقت افغان سپیشل فورس کے اہلکار بھی عمارت میں داخل ہوئے جو طالبان کو تلاش کر رہے تھے۔ اس وقت ہسپتال کی عمارت کے باہر لڑائی جاری تھی اور ایک ایمبولینس بھی اس کی زد میں آ گئی اور اس پر گولیوں کے نشان موجود ہیں۔

صبح ساڑھے سات سے آٹھ بجے کے درمیان ایم ایس ایف کا بین الاقوامی سٹاف اور آئی سی آر سی کے اراکین ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ انھوں نے افغان فوج کے بجائے اپنی تنظیم کی گاڑی کو استعمال کرنے کو ترجیح دی۔

صبح ساڑھے آٹھ بجے اطلاع ملی کی ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے۔

Image caption حکام کا کہنا ہے کہ تین اکتوبر کے بعد سے اب تک ہسپتال بند ہے

اسی بارے میں