زیر حراست ایرانی سائنسدان کی حفاطت پر خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 2010 میں واپس ایران پہچنے پر شاہ رام امیری کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا

ایران کے زیرحراست جوہری سائنسدان شاہ رام امیری کے والد اپنے بیٹے کی حفاظت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ میں متنازع قیام کے بعد 2010 میں ایران واپس لوٹنے والے پر شاہ رام امیری حکومتی حراست میں ہیں۔

شاہ رام کے والد اصغر امیری نے بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے کی حفاظت کے بارے میں خدشات لاحق ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی شاہ رام امیری سےگذشتہ ایک سال سے ملاقات نہیں کرائی گئی ہے۔

ایران کا الزام تھا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری سائنسدان شاہ رام امیری کو سعودی عرب سے اغوا کیا تھا جہاں وہ حج یا عمرہ کی غرض سےگئے تھے۔

سعودی عرب سے غائب ہونے کے بعد شاہ رام امیری امریکہ پہنچ گئے تھے جہاں سے انھوں نے کئی ویڈیو جاری کیں جن میں متضاد کہانیاں بیان کی تھیں۔

پہلی ویڈیو میں انھوں نے سعودی اور امریکی ایجنٹوں پر ان کو اغوا کرنے کا الز ام لگایا تھا۔ تاہم دوسری ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے امریکہ میں مزید تعلیم کے لیے آئے ہیں اور وہ آزاد طور پر ریاست ایریزونا میں رہ رہے ہیں۔

تیسری ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ وہ امریکی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو کر واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں قائم ایرانی سیکشن میں پہنچ گئے ہیں۔

2010 میں واپس ایران پہچنے پر شاہ رام امیری کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔

شاہ رام امیری کے خاندان کا کہنا ہے کہ 2010 میں امریکہ سے واپسی کے بعد ایرن نے انھیں ایک خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے۔

اصغر امیری نے کہا کہ پہلے انھیں اپنے بیٹے سے ملاقات کرائی جاتی تھی لیکن گذشتہ ایک برس سے انھیں اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی ہے۔

اصغر امیری نے کہا کہ انھوں نے تمام اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے رابطے کیے ہیں اور انھیں خطوط بھی تحریر کیے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

اسی بارے میں