حکومتی پابندی پر گرین پیس کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرین پیس گذشتہ 14 سال سے بھارت میں کام کر رہی ہے اور اس کے کارکنان کی تعداد 300 ہے

بھارت میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم گرین پیس کا کہنا ہے کہ اس کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس فصیلے کے بعد بھارت میں اس کی سرگرمیاں بند ہوگئی ہیں تاہم وہ حکومتی فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

گرین پیس پر پابندی

خیال رہے کہ اس سے قبل نریندر مودی کی حکومت نے اس تنظیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ ٹیکس قوانین پر عمل نہیں کرتی اور اس کا ایجنڈا ترقی کے خلاف ہے۔

گرین پیس کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 14 سال سے بھارت میں کام کر رہی ہے اور اس کے کارکنان کی تعداد 300 ہے۔

دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن رولٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں این جی اوز اور فلاحی گروہ ان کے نشانے پر ہیں۔

گرین پیس کا کہنا ہے کہ وہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

ادارے کے قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وینوتا گوپال نے اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کی قانونی پوزیشن مضبوط ہے۔

اسی بارے میں