بھارت میں ہندوتوا ناگزیر ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AnupamPkher
Image caption بھارت پوری طرح روادار ملک ہے اور کسی کو بھی اسے عدم روادار کہنےکا حق حاصل نہیں ہے: انوپم کھیر

ہندی فلموں کے معروف اداکار انوپم کھیر اور مشہور ہدایتکار مدھور بھنڈارکر نے آج سینکڑوں بی جے پی حامیوں کے ساتھ دلی میں مارچ کیا ۔اس مارچ کا نام ’مارچ فار انڈیا‘ تھا اوریہ ان فلم ادکاروں، ہدایت کاروں، ادیبوں اور دانشوروں کے خلاف تھا جو ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

انوپم کھیر اور اور ان کے ساتھیوں نے صدر مملکت کو ایک عرضداشت پیش کی ہے جس میں انھوں نے عدم رواداری کی بات کرنے والی فلمی ہستیاں اور دانشور ملک کو غیر ممالک میں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انوپم کھیر اور اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بھارت پوری طرح روادار ملک ہے اور کسی کو بھی اسے عدم روادار کہنےکا حق حاصل نہیں ہے۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہےکہ انھوں نے احتجاج کرنے والے ادیبوں اور دانشوروں کو بات چیت کی دعوت دی ہے۔ تاہم انھیں یہ نہیں معلوم کہ یہ لوگ احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پچھلے دنوں بی جے پی کے سینیئر رہنما وینکیا نائڈو اور پارٹی صدر امیت شاہ نے ایک کتابچہ جاری کیا جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کس طرح عدم رواداری کے خلاف کیا جانےوالا احتجاج حکومت کے خلاف مخالف جماعتوں کی ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پہلی بار فسطائیوں کی گرفت میں چلا گیا ہے اور ملک میں خوف کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے۔ منافرت پیدا کرنے والی طاقتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔

یہ ہیں وہ حالات جن میں اتوارکو بہار کے انتخابات کےنتائج سامنے آئیں گے۔ وزیر اعظم مودی اور ان کی جماعت نے انتخابات جیتنے کےلیے انتخابی مہم کے دوران مذہب کےنام پر ہندوؤں کا ووٹ متحد کرنےکی کوشش کی تھی۔انتخابات کےنتائج بھارت کی مستقبل کی سیاست کےلیے انتہائی اہم ہیں۔

اگر ان انتخابات میں لالو اور نتیش کےاتحاد کی شکست ہوتی ہے تو لالو ہی نہیں نتیش بھی مستقبل کی سیاست میں اپنی اہمیت کھو دیں گے اور بہت ممکن ہے کہ وہ ملک کی وسیع اور بدلتی ہوئی سیاست میں کہیں گم ہو جائیں۔

بی جے پی کی جیت سے مودی ذاتی طور پرانتہائی طاقتور ہو جائیں گے۔ بہار کی مہم کی قیادت خود انھوں نے کی تھی ۔ اس جیت کے ساتھ مودی کا اعتماد اور بڑھے گا اور وہ اپنے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کر سکیں گے۔ لیکن جس طرح انھوں نے بہار کے انتخابات مین ہندوتوا کا پرانہ فارمولہ استعمال کیا اس سے اشارہ ملتا ہےکہ ہندوتوا کی طاقتیں بھی پہلے سےبھی زیادہ متحرک ہو جائیں گی۔وہ پہلے ہی کافی تیزی کےساتھ حکومتی نظام کےہر شعبے پر اثر انداز ہونے لگی ہیں۔

لیکن اگر بی جے پی کی شکست ہوئی تو نتیش کمار کے گرد حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک نیا محاذ متحد ہونے لگےگا ۔مودی اگرچہ ایک منتخب وزیر اعظم ہیں اس کےباوجود ان کی پوزیشن کمزر ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تیزی سے اقتصادی اصلاحات شروع کرنے کےلیے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے دباؤ بڑھتا جائےگا ۔ اس ہار سے پارٹی کےاندر مودی کی گرفت ڈھیلی ہوگی اور ہندوتوا کی طاقتیں مضبوطی کےساتھ سامنےآئیں گی ۔آر ایس اور اس کی ہندو نظریاتی تنظیموں پر مودی کی پکڑ کمزور ہو جائے گی۔

بہار کا نتیجہ کسی بھی طرف جائے آنے والےدنوں میں بھارت کا جھکاؤ ہندوتوا کی طرف بڑھے گا ۔لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہو گا کہ یہ صورتحال بھارت میں مستقبل کی سیاست کے لیے سیکولرزم اور جمہوریت پر ایک نئی اور جامع بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں