کشمیر کو دوبارہ جنت بنانا چاہتے ہیں: نریندر مودی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندرا مودی کے دورہ کشمیر کے موقع سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لیے 80 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

نریندر مودی نے سنیچر کو سری نگر کے شیر کشمیر سٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج تو صرف آغاز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہلی کا خزانہ ہی نہیں دل بھی آپ کا ہے۔‘

’کشمیر پر کسی کی بات نہیں سنتا ہوں‘

خیال رہے کہ حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اجلاس سے قبل علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں قید کر دیا ہے جبکہ ان کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران پورے سری نگر شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

نریندر مودی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میری دلی خواہش ہے کہ یہ پیکج آپ کی قسمت کو تبدیل کرنے کے کام آئے۔ یہ پیسہ نیا اور جدید کشمیر بنانے میں لگنا چاہیے۔‘

مودی نے کہا کہ ’کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت‘ ہی کشمیر کی ترقی کا راستہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دلوں کو جوڑنے والی صوفی ثقافت یہیں سے پیدا ہوئی تھی اور جو ہندوستان کا مزاج ہے کشمیر کا مزاج اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی اس موقعے پر کئی پروجیکٹ کا افتتاح بھی کرنے والے ہیں

وزیر اعظم نے کہا: ’میں کشمیر میں ان دنوں کو واپس لانا چاہتا ہوں جب ہندوستان کا ہر فرد یہاں آنے کے لیے بیتاب رہتا تھا۔ کشمیر نے بہت کچھ برداشت کیا ہے، ہم اسے دوبارہ جنت بنانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’کشمیر کے لیے مجھے دنیا سے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں، کسی کے تجزیے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اس موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور جیتندر سنگھ بھی موجود تھے۔

نریندر مودی کے دورے کے دن ہی علیحدگی پسندوں نے ’ملین مارچ‘ کی کال دی تھی اور کہا تھا کہ یہ مارچ کشمیریوں کی حقیقی سیاسی خواہشات کا مظاہرہ ہوگا۔ جمعے کو میرواعظ عمرفاروق نے جامع مسجد میں ایک یکجہتی مارچ کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم جامع مسجد اور اس کے گرد و نواح کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔

نریندر مودی کے کشمیر پیکیج کے اعلان پر جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے مودی کے پیکیج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو روپے پیسے میں تولنے کی غلطی دہرائی ہے۔‘

اسی بارے میں