بھارت میں پہلا خواجہ سرا پولیس افسر تعینات کرنے کا فیصلہ

Image caption پریتھیکا پیدائش کے وقت ایک لڑکا تھیں اور ان کا نام پردیپ کمار تھا

ایک عدالتی فیصلے کے بعد بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ملک کے پہلے خواجہ سرا پولیس افسر کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔

آپریشن کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کرانے والی پریتھیکا یاشینی نے پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہونے کے لیے درخواست دی تھی لیکن ریاستی پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ ان کو نوکری نہیں دی جاسکتی کیونکہ ریاست میں تیسری جنس کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

پولیس حکام کے اس فیصلے کے خلاف پریتھیکا نے مدراس کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا جہاں پر فیصلہ اس کے حق میں سنا دیا گیا ہے۔

بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پریتھیکا کا کہنا تھا کہ ’ میں بہت خوش ہوں، یہ فیصلہ تمام خواجہ سراؤں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔‘

اس مقدمے کو سننے والے مدراس ہائی کورٹ کے دو ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’اس بھرتی کے سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے خواجہ سراؤں کے حقوق کو تقویت ملے گی۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ ’یاشینی کو اس عمل کو مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اسے آدھے راستے میں نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس اپریل میں ایک فیصلے میں خواجہ سراؤں کو تیسری جنس تسلیم کیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد بھارتی حکومت پابند ہے کہ وہ دیگر اقلیتوں کی طرح خواجہ سراؤں کے لیے بھی نوکریوں میں کوٹہ مخصوص کرے۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً 20 لاکھ خواجہ سرا رہتے ہیں۔

بھارتی اخبارٹائمز آف انڈیا کے مطابق تامل ناڈو میں پہلے ہی ایک خواجہ سرا بطور کانسٹیبل پولیس میں خدمات سرانجام دے رہا ہے لیکن دیگر بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پریتھیکا ملک کی پہلی خواجہ سرا پولیس افسر ہوں گی۔

پریتھیکا پیدائش کے وقت ایک لڑکا تھیں اور ان کا نام پردیپ کمار تھا لیکن اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر کو چھوڑ کر چلیں گئی تھیں جس کے بعد انھوں نے سرجری کے ذریعے اپنی جنس بدل لی تھی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں بچپن سے ہی پولیس افسر بننے کا شوق تھا۔

اسی بارے میں