’دودھ لے لو، ووٹ کی امید مت کرنا‘

Image caption بہار کے انتخابات میں گائے کا معاملہ متنازع رہا

بہار میں بی جے پی کی شکست کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو پارٹی کے صدر دفاتر اور بڑے رہنماؤں کی کوٹھیوں پر خاموشی چھا گئی۔ لیکن سب کے یہاں نہیں۔ اتوار کو بی جے پی کے بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی کے گھر میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔

حسن اتفاق سے کل مسٹر اڈوانی کی 88ویں سالگرہ تھی اور مبارک باد دینے ان کے گھر پہنچنے والوں میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل تھے۔

نریندر مودی، اڈوانی اور بہار، تینوں ایک غیر معمولی سیاسی داستان کے اہم کردار ہیں جن کے ستارے آپس میں ملتے ہیں۔

یہ کہانی اکتوبر سنہ 1990 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے اڈوانی ملک گیر رتھ یاترا پر نکلے تھے۔ اس وقت ملک مذہبی منافرت کی لپیٹ میں تھا، اور مذہب کے جنون میں مدہوش ہندو قوم پرست بابری مسجد کی جگہ ایک عالیشان رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کر رہی تھی۔

لیکن یہ رتھ یاترا جیسے ہی بہار کے سمستی پور ضلعے میں داخل ہوئی، ریاست کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے حکم پر اڈوانی کو گرفتار کر لیا گیا۔ لالو یادو سیکیولر اقدار کے چیمپیئن بن گئے، اور اڈوانی ہمیشہ کے لیے ہندوتوا کے علم بردار۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters shalendra kumar
Image caption نریندر مودی اور نتیش کمار نے ایک دوسرے کو ترقی کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا

یہ رتھ یاترا اور ان کی گرفتاری ان کی سیاسی پہچان بنی رہی۔ وہ سخت گیر ہندوتوا کے سب سے نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آئے اور اسی وجہ سے مخلوط حکومتوں کے دور میں کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکے۔

پھر بابری مسجد کی مسماری کے تقریباً 20 سال بعد نریندر مودی قومی سیاسی افق پر ابھرنا شروع ہوئے۔ وہ پہلے اڈوانی کے پیروکار تھے لیکن جب انھوں نے پارٹی پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کی تو اڈوانی ان کے خلاف ہو گئے۔

گذشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں اڈوانی وزیر اعظم بننے کی ایک آخری کوشش کرنا چاہتے تھے لیکن ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اور نریندر مودی آڑے آگئے۔ تب سے ایل کے اڈوانی پارٹی کے ناراض خیمے کے سرپرست تصور کیے جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جن کی صفائی دینا پارٹی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

بہار کے الیکشن میں بی جے پی کی شکست لال کرشن اڈوانی اور ان کے خیمےمیں شامل دوسرے رہنماؤں کے لیے اگر اچھی خبر نہیں تو ایک موقع ضرور ہے کہ وہ مودی کے کام کاج کرنے کے انداز کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لال کرشن اڈوانی نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے رتھ یاترا نکالی تھی

لگاتار دو الیکشن ہارنے کے بعد نریندر مودی کا سیاسی قد کم ہو گا، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ اور اس میں بھی بہار نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے مودی کی سیاسی رقابت پرانی ہے۔ نتیش کمار لمبے عرصے تک بی جے پی کے اتحادی رہے لیکن انھوں نے گجرات کے فسادات کی پرچھائیاں بہار سے دور رکھنے کی کوشش میں نہ کبھی مودی کو انتخابی ریلیوں سے خطاب کرنے کے لیے بہار آنے دیا اور نہ کبھی ان کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر کھڑے ہوئے۔

گذشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے جب نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا گیا تو نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کر دیا۔

بہار کا الیکشن اتنا اہم اور اتنا تلخ ہوجانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ یہ لالو، نتیش اور مودی کے درمیان آر پار کی لڑائی تھی۔ داؤ پر صرف ریاستی حکومت ہی نہیں تھی، یہ بہاری اور ’باہری‘ کا جھگڑا تھا جس کے کچھ دلچسپ پہلو شاید ہمشیہ نریندر مودی کی بھی پہچان بنے رہیں گے۔

پارلیمانی انتخابات سے پہلے نریندر مودی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہار کے بہادر عوام نے سکندر اعظم کو پسپا کیا تھا۔ نتیش کمار نے انھیں یاد دلایا تھا کہ سکندر اعظم نے کبھی بہار کی سرزمین پر قدم رکھا ہی نہیں تھا۔

بہار نے سکندر اعظم کو مار بھگایا ہو یا نہیں، اس نے نریندر مودی کو ایک راستہ ضرور دکھایا ہے، مودی اس پر چلنا پسند کرتے ہیں یا نہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لالو پرساد نے سنہ 1990 میں رتھ یاترا روکی اور 2015 میں مودی کی جیت کے راستے میں آڑے آ گئے

انتخابی نتائج آنے کے بعد کچھ دلچسپ کارٹون بھی شائع ہوئے ہیں جن کے طنز میں گہرا سیاسی پیغام بھی ہے۔ ایک کارٹون میں ایک گائے کہہ رہی ہے کہ ’میں نہ کہتی تھی کہ مجھ سے دودھ، دہی، گوبر لے لو لیکن ووٹ کی امید مت کرنا!‘

اس الیکشن میں اور بھی کئی غیرمعمولی باتیں ہوئیں۔ مہاراشٹر کی قوم پرست جماعت شو سینا نے نتیش کمار کو ’ہیرو‘ کہا ہے۔ شو سینا بی جے پی کی اتحادی جماعت ہے اور دونوں پارٹیاں مل کر مہاراشٹر کی حکومت چلاتی ہیں، شو سینا ماضی میں بہاریوں کے ممبئی میں کام کرنے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

ٹی وی چینلوں کے لیے بھی یہ الیکشن مشکل ثابت ہوا۔ مہینوں کے کوریج کے بعد ایگزٹ پول یا نتائج کے تخمینے پیش کیے گئے، زیادہ تر میں کانٹے کی ٹکر دکھائی گئی اور کچھ میں بی جے پی کی یک طرفہ کامیابی۔ سب بالکل غلط ثابت ہوئے۔ صرف ایک سروے بالکل درست تھا لیکن اسے کرانے والے ٹی وی چینل کو یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس لیے یہ ایگزٹ پول براڈکاسٹ ہیں نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں