ایران میں ناگوار پروگرام پر آزری اقلیتی کا احتجاج

Image caption ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پروگرام میں ملوث مینیجروں اور افراد کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا ہے

ایران میں پولیس اہلکاروں اور ملک کی آذری اقلیت کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ آذریوں کا کہنا ہے کہ ملک کے سرکاری نشریاتی چینل نے اپنی ایک نشریات میں ان کی ناگوار عکاسی کی ہے۔

پولیس اہلکاروں نے کئی شمال مغربی شہروں اور قصبوں میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کرنے کے علاوہ کئی لوگوں کو گرفتار کیا۔

زیر حراست ایرانی سائنسدان کی حفاطت پر خدشات

ایران میں ’کے ایف سی کی پہلی شاخ‘ کی بندش

آذریوں کا احتجاج جمعے کے روز شروع ہوا جب بچوں کے ایک پروگرام کی نشریات میں آذریوں کے تلفظ کا مذاق اڑایا گیا اور ان کے بارے میں ناگوار مذاق کیے گئے۔

سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی ’ ناقابلِ مُعافی کی غلطی‘ کی معافی مانگی ہے۔

خبر رساں ادارے فارس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سربارہ محمد سرفراز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اس افسوس ناک حرکت میں ملوث مینیجروں اور افراد سے سنجیدگی سے نمٹا جائے گا اور اس واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم نسلی اتحاد اور قومی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں اضافہ کریں گے۔‘

ایران میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ آذری رہائش پذیر ہیں جو ملک کی آبادی کے 16 فیصد کے برابر ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ آذریوں نے حکومت اور معاشرے دونوں میں ایک اچھا مقام تو بنایا ہے لیکن یہ بھی کہ وہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ آذری سرگرم کارکنوں کو ہراساں کرتی ہے، ان کے جغرافیائی ناموں کو بدلتی ہے اور یہ کہ اس نے سکولوں میں آذری زبان بولنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

آذری تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کی برادری کے لیے ثقافتی اور لسانی حقوق کی وکالت کرنے والے کئی سیاسی آزری سرگرم کارکنوں کو بھی قید کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں