پابندی کے باوجود چین میں قیدیوں پر تشدد: ایمنیسٹی انٹرنیشنل

تصویر کے کاپی رائٹ amnesty international
Image caption یہ رپورٹ چین کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 37 وکیلوں کے انٹرویوز، 590 عدالتی فیصلوں، اور عدالتی قوانین اور طریقہ کار کے تجزیے کے بعد مرتب کی گئی ہے

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین میں سنہ 2010 سے مجرموں کے لیے انصاف کے نظام میں اصلاحات متعارف کروانے کے باوجود ملزمان سے تشدد کے ذریعے اعترافِ جرم کروانے کے پرانے طریقہ کار میں محض معمولی سی بہتری آئی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں وہی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو رواں سال مئی میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں سامنے آئی تھیں۔

حالیہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز بعد ہی اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسداد تشدد کا اجلاس سوئیٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں متوقع ہے۔ اس اجلاس میں تشدد کے خلاف سنہ 2008 کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت چین کی کارکردگی کا جائز ہ لیا جائے گا۔

دونوں رپوٹس میں کہا گیا ہے کہ چین میں غیر قانونی اور غیر انسانی طریقہ کار اب بھی نافذ العمل ہے اور اس کے تدارک کے لیے چین کی جانب سے اس کے قانونی نظام میں تبدیلی زیادہ مددگار ثابت نھیں ہوئی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے مذکورہ نتائج چین کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 37 وکیلوں کے انٹرویوز، 590 عدالتی فیصلوں، اور عدالتی قوانین اور طریقہ کار کے تجزیے کے بعد مرتب کیے گئے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے محقق پیٹرک پُون کہتے ہیں کہ ’ اب بھی پولیس کے لیے اعترافِ جرم کے ذریعے سزا دلوانا آسان ترین حل ہے۔‘

متاثرین کی جانب سے باقاعدگی سے بتانے، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اور سرکاری میڈیا میں مسئلے کو اجاگر کرنے کے باوجود چینی حکام اس بات پر مصر نظر آتے ہیں کہ اب یہ طریقہ کار معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

اپریل 2014 میں پولیس کے حراستی مراکز کی نگرانی کرنے والے سینیئر حفاظتی اہلکار جاؤ چن گوانگ کا کہنا تھا کہ تشدد کی روک تھام کے مقصد سے بنائے گئے قوانین کے بعد ملک کے حراستی مراکز میں تشدد کے ذریعے اقبال جرم کروانے کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ amnesty international

رواں سال مئی میں جاری ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کی ترجمان ہووا چن یِنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ چین کے قوانین کے تحت دوران تفتیش تشدد کی ممانعت ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا مرتکب پایا جائے گا تو اس کو سزا دی جائے گی۔

اس معاملے پر عوام کی حفاظت کی وزارت اور وزارت انصاف کی رائے جاننے کے لیے بذریعہ فیکس بھیجی گئی درخواست پر ان کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

چین میں غیر قانونی طور پر معلومات حاصل کرنے کے الزام میں سزا پانے والے برطانوی شہری پیٹر ہمفری کوطبعیت کی ناسازی کی بنا پر رہا کردیا گیا تھا اور واپس ان کے ملک بھیج دیا گیا تھا۔ رواں سال جون کے مہینے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں چینی ٹیلی وژن پر آکر اعتراف جرم کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے چینی حکام نے ان کی پروسٹیٹ کی بیماری کا علاج روک دیا تھا۔

رواں سال ستمبر میں اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے چینی صحافی لُیو ہُونے بتایا کہ جب انھیں بیجنگ کے حراستی مرکز میں قید رکھا گیا تھا تو انھیں سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ لُو کی جانب سے کسی غلط کام کا اعتراف نہیں کیا گیا۔

ہیومن رائیٹس واچ کی چین کی ڈائریکٹر صوفی رچرڈسن نے تحریر بیان میں بیجنگ پر زور ڈالا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے آنے والے اجلاس میں تشدد کے معمول پر ایماندارانہ طور پر بحث کا حصہ بنیں۔

چین میں ’تشدد روز مرہ کی حقیقتوں میں شامل ہے اور یہ بیجنگ کے لیے اہم مرحلہ ہے کہ وہ ان سخت سوالات کا جواب دے کہ یہ مسئلہ اب تک کیوں برقرار ہے۔ بے ایمانی، ٹال مٹول، یا پھر حکام کی جانب سے اس موضوع سے بچ نکلنے کی کوشش کرنے سے تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوگا۔‘

اسی بارے میں