’برطانوی بھارتی نہیں ہمارے ہمسائے لگتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی برطانیہ کے دورے پر آج پہنچ رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ جہاں بھارتی حکومت کے لیے اہمیت کا حامل ہے وہیں اس پر شدید تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

برطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں کے 130 ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ نے برطانوی اخبار گارڈیئن میں ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ’نریندر مودی سے اُن کے دورۂ برطانیہ کے دوران بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوال کیا جائے۔‘

مودی کے 18 ماہ میں 28 بیرونی دورے

کیا مودی کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے؟

اس خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’2014 میں مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد اقلیتوں اور خواتین کو بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور ہراس کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ثقافتی، تعلیمی آزادیاں بھی کم ہوتی جا رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Guardian

’مودی ان یوکے‘ اس وقت پاکستان کا صفِ اول کا ٹرینڈ ہے اور بہت سی ٹویٹس کا موضوع بھارت میں بڑھتی عدم برداشت ہے۔

عام آدمی پارٹی کے رکن اور بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل ایچ ایس پھالکا نے لکھا: ’مودی کے دورۂ برطانیہ کا بائیکاٹ کریں کیونکہ انھوں نے 84 کے فسادات کو ووٹوں کی بھینٹ چڑھایا اور انصاف کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘

اونتھ واسو اس ساری احتجاج کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ برطانوی بھارتی اس دورے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ہمسائے لگتے ہیں۔ آپ سمجھ جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اجے کلکرنی نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے مودی کے دنیا بھر میں گھومنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر میرا حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ وہ واپس لوٹ آتے ہیں۔‘

پاکستانی صحافی رحمان اظہر کی ٹویٹ: ’مودی کی آمد پر برطانیہ میں مقیم کشمیری کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ برطانوی حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ مودی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائے۔‘

اسی بارے میں