’سعودی عرب نہ جانا، وہ لوگ ہم پر تشدد کر رہے ہیں‘

سعودی عرب میں اپنے آجر پر بازو کاٹنے کا الزام عائد کرنے والی بھارتی ملازمہ کستوری منی رتھینم نے بی بی سی کے ٹیلی وژن پروگرام نیوز نائٹ میں اپنے اوپر ہونے والے مبینہ حملے کی تفصیلات بتائی ہیں اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملازمت کی غرض سے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد کرے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں دس لاکھ سے زائد بھارتی باشندے کام کرتے ہیں جن میں ہزاروں گھریلو ملازمین بھی شامل ہیں۔

کستوری بھی ایک گھریلو ملازمہ تھیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے آجر نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا تھا جب انھوں نے اس کے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

کستوری نے نیوز نائٹ کو بتایا کہ سعودی عرب کے شہر ریاض پہنچنے کے بعد ان کے نئے مالکان نے ان کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا تھا اور ان کے ساتھ بُرا برتاؤ شروع کر دیا تھا، جبکہ ان کی مالکن کا کہنا تھا کہ انھیں تامل ملازمہ نہیں چاہیے۔

ان کے مطابق ’میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کو میرا کام نہیں پسند تو آپ میرے ایجنٹ کو بتا دیجیے اور مجھے واپس بھجوا دیجیے۔‘

کستوری کے مطابق پہلے انھیں ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی لیکن پھر واپس لے لی گئی تھی۔ وہ کہتی ہیں: ’وہ (مالکن) مجھے اپنے فون میں سِم کارڈ بھی نہیں ڈالنے دیتی تھیں اور انھوں نے فون کا چارجر بھی لے لیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دو ماہ گزرنے کے بعد ان کے مالکان نے انھیں بتایا کہ وہ انھیں جیل بھیجنے کے لیے پولیس کے حوالے کر رہے ہیں: ’اس پر مجھے احساس ہوا کہ اگر مجھے پولیس سٹیشن بھیج دیا گیا تو معلوم نہیں کب واپس جا سکوں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی عرب میں دس لاکھ سے زائد بھارتی باشندے کام کرتے ہیں

نیوز نائٹ کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کستوری منی رتھنیم کا کہنا تھا کہ ’میں نزدیک میں واقع اپنی مالکن کی بیٹی کے گھر چلی گئی کیونکہ ان کا ڈرائیور اور دوسری ملازمائیں تمل زبان بولتی تھیں۔‘

لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو اس وقت ڈرائیور گھر پر نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں: ’میری مالکن مجھے ڈھونڈتی ہوئی وہاں آگئیں اور ہاتھ پکڑ کر واپس لے گئیں۔‘

واقعے کی مزید تفصیل میں جاتے ہوئے کستوری منی رتھنیم کہتی ہیں: ’پھر میں اپنے کمرے میں گئی اور اپنی ساڑھیاں لے کے ان کے ایک سرے کو بستر سے باندھ کے باقی کو باہر کھڑکی سے لٹکا دیاتھا۔ میرے مالکان بھی ( کمرے کے) اندر آگئے تھے لیکن میں نے انھیں نہیں دیکھا تھا۔میں ساڑھی پکڑ کے کھڑکی سے نیچے اترنے کی کوشش کر رہی تھی جب ہی میں نے زوردار آواز سنی۔ اس کے ساتھ ہی میں نیچے گر گئی تھی اور اس کے بعد مجھے یاد نہیں کہ کیا ہوا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ہسپتال جا کر انھیں پتہ چلا کہ ان کا پورا بازو ہی نہیں ہے جبکہ پولیس ہسپتال آئی تھی لیکن ان سے کچھ بھی نہیں پوچھا گیا تھا۔

دوسری جانب ریاض پولیس کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ کستوری منی رتھنیم ذہنی الجھاؤ کا شکار تھیں اور فرار ہونے کی کوشش میں اپنے بازو کو انھوں نے خود نقصان پہنچایا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ وزیر خارجہ سشما سوارج کا بھی کہنا تھا کہ حکومت نے اس معاملے پر سعودی حکام سے بات کی ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے کستوری منی رتھنیم کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاہم وہ کہتی ہیں کہ اب وہ نوکری کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کسی کو بھی وہاں نہیں جانا چاہیے۔ وہ لوگ ہم پر تشدد کر رہے ہیں۔‘

کستوری منی رتھنم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد سعودی عرب میں گھریلو ملازمین کے ساتھ پیش آنے والے سلوک کے بارے میں خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

نیوز نائٹ کی جانب سے اس معاملے پر جب سعودی عرب کی حکومت سے ان کا نقطۂ نظر مانگا گیا تو ان کی جانب سے انکار کر دیا گیا۔

اسی بارے میں