’ہم نے اس رات اصل میں جہنم دیکھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption باتاکلان میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے

پیرس میں گذشتہ جمعے کو باتاکلان کنسرٹ ہال پر حملوں کے بعد وہاں کارروائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے مطابق انھوں نے وہاں’اصل میں جہنم دیکھا۔‘

باتاکلان میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن پولیس کی یونین کے ترجمان نکلولس کمت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اہلکاروں کا آنکھوں دیکھا احوال بتایا۔

جنگِ عظیم دوم کے بعد پیرس میں بدترین تشدد

’باتاکلان کنسرٹ ہال کے اندر موجود ایک شخص پولیس سے فون پر بات کر رہا تھا۔ وہ ہال کے تکنیکی احاطے میں موجود تھا۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ فائرنگ ہو رہی ہے، وہ سن سکتا تھا کہ وہ (حملہ آور) اب بھی لوگوں کو مار رہے ہیں۔‘

نکلولس کمت کے مطابق اس کے بعد پولیس کے خصوصی دستوں نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

’ان اہلکاروں نے پہلے سمجھا کہ وہ پانی پر چل رہے ہیں لیکن بعد میں انھیں اندازہ ہوا کہ یہ خون ہے۔ انھیں تاریکی میں آگے بڑھنے کا راستہ بنانا تھا اور وہ لاشوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ فرش پر پڑے زخمیوں نے جب پولیس اہلکاروں کو دیکھا تو انھوں نے کراہتے ہوئے مدد کی درخواستیں کیں، جب میرا ایک ساتھی ان کے پاس سے گزرا تو انھوں نے پکڑ کر روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے مدد نہیں کی اور آگے بڑھ گیا۔‘

نکلولس کمت نے فرانسیسی زبان میں مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو ہر ایک کو بچانے سے پہلے وہاں دہشت گردوں کو ختم کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملہ آوروں کی جانب سے پولیس کو مزاحمت کا سامنا تھا

انھوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی اور اہلکاروں کے دھات سے بنی حفاظتی ڈھال پر 27 گولیاں لگی۔

اس وقت وہاں حملہ آوروں اور ان کے درمیان 20 کے قریب مغوی موجود تھے۔

’اہلکاروں کو اندازہ ہوا کہ انھیں اس سب کو جلدی ختم کرنا ہے۔ وہ ایک حملہ آور کو گولی مارنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے فوری بعد دوسرے حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

حملہ آوروں کے مارے جانے کے بعد پولیس اہلکاروں نے خوفناک مناظر دیکھے۔ انھوں لوگوں کو ایک دوسرے پر پڑے ہوئے دیکھا جس میں کئی شدید زخمی تھے۔ ان میں زیادہ تر جوان تھے۔

ترجمان کے مطابق ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ’ ہم نے اس رات اصل میں جہنم دیکھا۔‘

اسی بارے میں