’ملازماؤں کے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے قانونی نظام پر حقوق انسانی کی تنظیمیں آواز اٹھاتی رہتی ہیں

سری لنکا کی ایک وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب میں ایک سری لنکن ملازمہ کو سنگسار کرنے کی سزا کے بعد ان کا ملک وہاں خواتین گھریلو ملازمین کو بھیجنا بند کر دے گا۔

بیرون ملک مقیم سری لنکن ملازمین کی وزارتِ کی وزیر تھالتھا ایتوکورلے نے بی بی سی سنہالی سروس کو بتایا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جلد ہی ان کا ملک گھریلو ملازمت کی غرض سے خواتین کے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔

’سعودی عرب نہ جانا، وہ لوگ ہم پر تشدد کر رہے ہیں‘

سعودی عرب: سری لنکا کی ملازمہ کا سرقلم

سری لنکا میں سعودی عرب ملازماؤں کے طور پر جانے پر پابندی کی باتیں کئی برسوں سے ہو رہی ہیں۔

ان میں 2013 میں اس وقت شدت آئی جب وہاں سری لنکن ملازمہ رضانہ نفیق کا قتل کے جرم میں سزا کے طور پر سر قلم کر دیا گیا۔

اس وقت بھی رضانہ کی سزا کو ختم کرنے کے بارے میں متعدد اپیلیں کی گئی تھیں اور سری لنکا کے بیرون ملک ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن راجن راما نائیکا کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت کا طرز عمل انتہائی آمرانہ ہے جو کبھی کسی یورپی یا امریکی کے سر تو قلم نہیں کرتے مگر ایشائی اور افریقی نژاد افراد کو کبھی معاف نہیں کرتے۔

بدھ کو ایک سری لنکن ملازمہ کو غیر ازدواجی تعلقات پر سنگسار کرنے کی سزا کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔

اس خاتون کا نام سامنے نہیں آیا لیکن شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں پر الزام ہے کہ اس کے ایک غیر شادی شدہ سری لنکن شخص سے غیر ازدواجی تعلقات تھے۔

Image caption کستوری منی رتھینم کے سعودی مالک نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا جب انھوں نے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر ان کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی

اس شخص کو ایک سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔

سری لنکا کی برطانیہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ہائی کمشنر اعظمی تھاسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سعودی عرب میں اس سزا کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔

’جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو وہاں کے قوانین کے مطابق اس نوعیت کی سزا معمول کی بات ہے، ہم نے دو کام کیے ہیں، ایک تو متاثرین سے بات کی ہے، ہم نے قانونی مدد حاصل کی اور اس کے خلاف اپیل کی۔‘

Image caption اپریل میں سعودی عرب نے انڈونیشیا کی ایک اور گھریلو ملازمہ کو قتل کے جرم میں پھانسی دے دی ہے

رواں ماہ ہی سعودی عرب میں اپنے آجر پر بازو کاٹنے کا الزام عائد کرنے والی بھارتی ملازمہ کستوری منی رتھینم نے بی بی سی کو اپنے اوپر ہونے والے مبینہ حملے کی تفصیلات بتائی ہیں اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملازمت کی غرض سے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد کرے۔

کستوری بھی ایک گھریلو ملازمہ تھیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے آجر نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا تھا جب انھوں نے اس کے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

اگست میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 175 افراد کو ’غیر منصفانہ‘ نظام کے تحت، جس میں بنیادی تحفظات میسر نہیں ہیں، سزائے موت دی گئی۔

اسی بارے میں