جنوبی اور شمالی کوریا میں مذاکرات پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption توقع کی جارہی ہے کہ مذاکرات دونوں جانب سے بڑی تعداد میں فوج سے گھری سرحد کے درمیان واقع پان منجوم نامی گاؤں میں ہوں گے

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے ین ہیپ کے مطابق جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے کی جانے والی پیشکش قبول کر لی ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے پہلے بتایا تھا کہ اگلے ہفتے مذاکرات کی پیش کش کی گئی تھی۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے مطابق ان کی جانب سے ستمبر اور اکتوبر میں مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن شمالی کوریا کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اگست میں تعلقات میں تعطل کے بعد یہ اس نوعیت کے پہلے مذاکرات ہوں گے۔ یہ مذاکرات سرحد پر بارودی سُرنگوں کے دھماکوں اور دونوں جانب سے گولہ باری کے بعد شروع ہوئے تھے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات دونوں جانب سے بڑی تعداد میں فوج سے گھری سرحد کے درمیان واقع پان منجوم نامی گاؤں میں ہوں گے۔

معطل معاہدے کے تحت جن لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے سرحد کے آس پاس کے علاقوں میں جنوبی کوریا کی جانب سے پروپیگنڈا کیا جاتا تھا، وہ بند کردیے گئے ہیں، شمالی کوریا کی جانب سے ان دھماکوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا جن کی وجہ سے دونوں جانب کے فوجیوں کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

معاہدے میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عہد بھی شامل تھا۔ کوریا کی جنگ میں ایک دوسرے سے بچھڑ جانے والے خاندانوں کو آپس میں ملاپ بھی کرایا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں کوریا تکنیکی طور پر سنہ 53-1950 کی کوریائی جنگ کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ البتہ ان کے درمیان باضابطہ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح ضرور ہے۔

اسی بارے میں