بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر پاکستان کی تشویش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان نے بنگلہ دیش میں حزبِ مخالف کے دو رہنماؤوں کو پھانسی دیے جانے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نو اپریل 1974 کو کیے جانے والے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے مفاہمتی انداز اپنائے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب حزب اختلاف کے دو رہنماؤں صلاح الدین قادر چودھری اور علی احسن محمد مجاہد کو سنہ 1971 میں پاکستان کے خلاف بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے ڈھاکہ کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔

ان دونوں رہنماؤں پر قتل عام اور ریپ کا الزام تھا جس کی دونوں نے تردید کی تھی۔

بنگلہ دیش میں دی جانے والی پھانسیوں پر اتوار کو پاکستانی دفترِ خارجہ نے تحریری بیان اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بنگلہ دیش میں نو اپریل 1974 میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت بنگلہ دیش میں مفاہمت کی ضرورت ہے زور دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان 1971 کے سانحہ کے تناظر میں بنگلہ دیش میں جاری متعصب عدالتی کارروائی سے متعلق عالمی برادری کے ردعمل کو بھی دیکھ رہا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں 1971 کے معاملات کو بھلا کر آگے بڑھنے کی سوچ اپنانے پرزوردیاگیا ہے اور اس سے خیرسگالی اورہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علی احسن محمد مجاہد (بائیں) جماعت اسلامیہ بنگلہ دیش کے جنرل سیکریٹری تھے

پھانسی کی سزا پانے والے صلاح الدین قادر چودھری ایک بااثر سیاست دان کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور وہ چھ بار رکن پارلیمان رہ چکے تھے ۔ جبکہ علی احسن محمد مجاہد بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما تھی۔

وزارت داخلہ کے مطابق دونوں افراد کو صدر عبدالحمید کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد پھانسی پر لٹکایا گیا۔

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں دونوں رہنماؤں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی۔

صلاح الدین قادر چودھری بنگلہ دیش کی نیشنلسٹ پارٹی کی سینیئر ترین رہنما تھے۔

دو سال قبل جنگی جرائم کے خصوصی ٹرائبیونل نے ان پر قتل عام، آتشزدگی اور مذہب اور سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو ایذا پہنچانے کے 23 الزامات میں سے نو میں مجرم ٹھہرایا تھا۔

جبکہ علی احسن محمد مجاہد جماعت اسلامیہ بنگلہ دیش کے جنرل سیکریٹری تھے۔ انھیں جولائی 2013 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان پر آزادی کی حمایت کرنے والے بنگلہ دیشی رہنماؤں اور دانشوروں کے قتل کا الزام تھا۔

ٹرائبیونل نے انھیں اغوا اور قتل سمیت پانچ الزامات میں مجرم ٹھہرایا تھا۔

سنہ 2010 سے دو مختلف ٹرائبیونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ٹرائبیونل کی جانب سے مجرم ٹھہرائے گئے زیادہ تر افراد کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں