بھارتی اسلام کو بچانا کیوں ضروری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام اور عراق میں داعیش کی جنگجو فوج میں سینکڑوں یورپیئن سمیت ہزاروں غیر ملکی برسرپیکار ہیں

اسلام کےنام پر خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم، القاعدہ، بوکو حرام اور ان جیسی متعدد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا عروج اور ان کے ذریعے دنیا کےمختلف خطوں میں کی جانے والی قتل وغارت گری سے بھارت کےمسلمان انتہائی سراسیمہ ہیں۔

بھارت کی تاریخ میں غالـباً یہ پہلا موقع ہے جب مسلمانوں کےمختلف مسالک اور فرقوں کے ایک ہزار سے زیادہ مذہبی علما اور سکالروں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فتوے جاری کیے ہیں۔

بھارت میں ہندوتوا ناگزیر ہے؟

گائے صرف بہانہ ہے، اصل نشانہ تو مسلمان ہیں

ہندو پرست مورخ تاریخ کو بدل سکیں گے؟

ان فتووں میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام ہر طرح کےتشدد کے خلاف ہے جبکہ آئی ایس آئی ایس قتل وغارت گری کی مرتکب ہے۔‘

یہ فتوے کئی مہینوں میں پورے ملک سے جمع کیے گئے ہیں۔ 15 جلدوں پر مشتمل یہ فتوے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور دوسرے عالمی رہنماؤں کو بھیجے گئے ہیں۔

ان رہنماؤں کےنام لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام ہر شکل میں دہشتگردی کےخلاف ہے خواہ اس کا ارتکاب کسی بھی مقصد کے لیے کیا گیا ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ فتوے انھیں بھیجنےکا مقصد انھیں اس حقیقت سےواقف کرانا ہے کہ بھارت کے 16 کروڑ مسلمان تشدد میں یقین نہیں رکھتے۔

بھارت کے مسلمان اس وقت دوہرے دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ لبنان، پیرس اور مالی جیسے دہشتگردانہ واقعات اور دولت اسلامیہ، بوکو حرام اور الشباب جیسی سنی دہشت گرد تنظیموں کےعروج سے مذہبی طور پر پست اور شکستہ محسوس کرتے ہیں تو دوسری جانب وہ ملک کے اندر ہندو سختگیریت کے نشانے پر ہیں۔

ملک میں ہندو نطریاتی تنظیموں نے رابطے کی ہرسطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک منظم تحریک چلا رکھی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر، اخباروں میں، سوشل میڈیا پر یہاں تک کہ سکول کی اسمبلیز میں بھی اسلام مخالف اور مسلم مخالف جذبات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Screengrab
Image caption ان فتووں میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام ہر طرح کےتشدد کے خلاف ہے جبکہ آئی ایس آئی ایس (داعیش) قتل وغارت گری کی مرتکب ہے۔‘

نفرت پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور امریکہ میں آباد مسلمانوں کےحوالے سے طرح طرح کی نفرت انگیز کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔

بھارت خود ایک طویل عرصے تک دہشت گردی سے متاثر رہا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں کئی عشروں تک خونریز تحریکیں چلی ہیں۔

سری لنکا کی دہشت گرد تنظیم تمل ٹائیگرز بھی بھارت میں ہی وجود میں آئی تھی۔ پنجاب میں کئی برس تک دہشت گردی کا زور رہا ہے۔کشمیر میں 30 برس تک مقامی اور بیروني تنظیمیں خونریز تحریک میں ملوث رہیں۔

بھارت کے مسلمانوں اور ان کی مذہبی قیادت نے کسی بھی مرحلے پر تشدد کو قبول نہیں کیا۔ وہ ملک کےدوسرے مذاہب ہی کی طرح بقائے باہم میں یقین رکھتے ہیں۔

کشمیر میں ایک درجن سے زیادہ ملکوں کےمسلم جنگجو مذہب کےنام پر لڑتے ہوئے مارے گئے لیکن 30 برس کی علیحدگی پسندی کی اس تحریک میں بھارت کا ایک بھی مسلمان کبھی بھی کسی بھی شکل میں شریک نہیں ہوا۔

شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی جنگجو فوج میں سینکڑوں یورپین سمیت ہزاروں غیر ملکی برسرپیکار ہیں لیکن دولتِ اسلامیہ پر نظر رکھنے والے مصدقہ اداروں کے مطابق ہزاروں کی اس جنونی فوج میں بھارت کا ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے۔

بھارت میں عدم تشدد کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ بھارتی اسلام کی جڑیں وسطی ایشیا، ایران اور یہاں کی تہذیبی، اخلاقی اور روحانی اقدار میں پیوست ہیں۔کثیر مذہبی اور ثقافتی جمہوریت مذہب میں انفرادی آزادی اور تصورات کے اظہار کا ضامن ہے۔

یہاں ہرطرح کے دباؤ کے باوجود شہری ابھی تک کسی گھٹن اور شناختی بحران کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ سخت گیریت کے اس دور میں بھی مزاحمت اور تبدیلی کے راستےکھلے ہوئے ہیں۔ بھارتی معاشرے کا سب سے مثبت پہلو پر امیدی ہے۔

اور جب تک امید ہے دولت اسلامیہ اورالقاعدہ جیسی تنظمیں اپنی تمام قوت کے ساتھ بھی بھارتی اسلام کو شکست نہیں دے سکیں گی ۔

اسی بارے میں