مسلمان جہاں چاہیں جاسکتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ کچھ لوگ پاکستان بھی گئے ہیں۔اگر ان کے ساتھ بھی زیادتی ہو تو وہ بھی واپس آسکتے ہیں‘

اگر آپکو گھومنے پھرنے کا شوق ہے اور آپ مسلمان ہیں اور ہندوستان میں رہتے ہیں تو آپ کے لیے اچھی خبر ہے۔

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کے گورنر کا کہنا ہے کہ ہندوستان ہندؤں کے لیے ہے اور ’مسلمان جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔‘

کچھ لوگ پی بی آچاریہ کے بیان سے ناراض ہوسکتے ہیں لیکن اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو اس میں برائی کیا ہے؟ مسلمان آزاد ہیں، آگے بڑھنے کے لیے، دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے۔۔۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے آج ذرا بگڑے ہوئے ماحول میں بی پی آچاریہ مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔

مسٹر آچاریہ بی جے پی کے سابق رہنما ہیں۔ پہلے انھوں نےصرف اتنا کہا تھا کہ ہندوستان ہندؤں کے لیے ہے، ہنگامہ ہوا تو وضاحتی بیان دیا جس پر پہلے بیان سے بھی زیادہ ہنگامہ ہوا!

چونکہ ان کی شکایت یہ ہے کہ جو اخباروں میں چھپا ہے وہ ان کے کہنے کا مطلب نہیں تھا، لہذا مطلب آپ خود ہی نکال لیجیے۔

”میں نے یہ نہیں کہا کہ ہندوستان صرف ہندؤں کے لیے ہے۔ اگر مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے کوئی ہندو کسی دوسرے ملک سے ہندوستان آتا ہے تو اس کا استقبال کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں یہاں آنے کا حق حاصل ہے، انہیں ہندوستان میں ہی پناہ مل سکتی ہے۔ پاکستان میں اگر کسی ہندوستانی عیسائی کے ساتھ زیادتی ہو تی ہے تو وہ بھی ہندوستان آسکتا ہے، وہ اور کہاں جائے گا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اگر کسی بیان پر تنازع پیدا ہو جائے تو جہاں تک ممکن ہو وضاحت سے گریز کرنا چاہیے‘

لیکن اس سوال کے جواب میں اگر ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے، مسٹر آچاریہ نے کہا کہ ’ وہ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں، وہ یہاں بھی رہ سکتے ہیں ، چاہیں تو پاکستان اور بنگلہ دیش بھی جاسکتے ہیں، وہ آزاد ہیں، کچھ لوگ پاکستان بھی گئے ہیں۔اگر ان کے ساتھ بھی زیادتی ہو تو وہ بھی واپس آسکتے ہیں، ہندوستان میں انہیں بھی پناہ ملے گی، ہندوستان کا دل بہت بڑا ہے۔۔۔ دنیا بھر سے پارسی ختم ہوگئے ہیں لیکن ہندوستان نے انہیں پناہ دی، یہ ٹاٹا، گوڈریج، واڈیا کون ہیں؟ یہ سب پارسی ہیں۔ ہندوستان دنیا کا سب سے روادار ملک ہے!‘

اس کہانی سے ایک سبق ضرور ملتا ہے ، اگر کسی بیان پر تنازع پیدا ہو جائے تو جہاں تک ممکن ہو وضاحت سے گریز کرنا چاہیے! پہلے صرف کچھ مسلمان ناراض ہوتے، لیکن اب ملک کے سب سے بڑے صنعتکار بھی پناہ گزینوں کی صف میں کھڑے ہیں۔

لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی سینئر رہنما نے اس طرح کا بیان دیا ہے۔ اس سے پہلے گری راج کشور، جو اب وفاقی وزیر ہیں، یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ جو لوگ نریندر مودی کو پسند نہیں کرتے، وہ پاکستان جاسکتے ہیں! یا ہریانہ کے وزیر اعلٰی نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں رہ رسکتے ہیں، لیکن انہیں گائِے کا گوشت کھانا چھوڑنا ہوگا، یا وزیر ثقافت نے کہا کہ سابق صدر عبدالکلام مسلمان ہونے کے باوجود محب وطن تھے۔ یہ فہرست لمبی ہے۔

اگر سفر کرنا ہو تو گنجائش تو بہت ہے، بس ٹکٹ ایک طرف کا خریدئے گا۔

اسی بارے میں