’عامر خان پر تنقید ہمیں بھارت کے متعلق کیا بتاتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption عامر خان نے کہا تھا کہ ملک میں عدم تحفظ، خوف اور خطرے کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے

بھارتی فلمی صنعت کے مشہور ستارے عامر خان کے بھارت میں ’عدم برداشت میں اضافے‘ کے بیان پر شدید ردعمل ہمیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے بارے میں چند حقائق سے آگاہ کرتا ہے۔

صحافیوں کے ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے دوران عامر خان نے کہا تھا کہ ملک میں عدم تحفظ، خوف اور خطرے کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے اور جب وہ اپنی فلم ساز اہلیہ کِرن راؤ سے بات کرتے ہیں تو وہ سوچتی ہیں کہ اُن کے خاندان کو بھارت سے باہر منتقل ہو جانا چاہیے۔

عامر خان کا کہنا تھا کہ ’یہ کرن کی جانب سے دیا گیا بڑا بیان ہے۔ وہ بچوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ڈرتی ہیں۔ وہ ہر دن اخبار کھولتے ہوئے خوفزدہ رہتی ہیں۔ یہاں پریشانی اور نا اُمیدی کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آپ کو افسردگی محسوس ہوتی ہے، کچھ کمی سی لگتی ہے۔ یہ کیوں ہورہا ہے؟‘

کئی افراد کا کہنا ہے کہ عامر خان درست ہیں۔ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران مجھ سے ملنے والوں اور میرے دوستوں نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سست میعشت، غیر منظم انصاف کا نظام، بلا روک ٹوک کرپشن، غیر اہم مسائل پر ہنگامہ، اور اب عدم برداشت کی کارروائیوں کی وجہ سے وہ اس بات کو فوقیت دے رہے ہیں کہ اُن کے بچے یہاں سے چلے جائیں۔

بہت مشہور مصنفوں اور فنکاروں نے مذہبی اور ثقافتی عدم رواداری میں اضافہ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اقلیتوں کو مارا جا رہا ہے، مسلمان شخص کو صرف گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں قتل کردیا گیا۔

کیا بھارت ٹوٹ رہا ہے؟

سچ بولیں تو بھارت مذہبی تشدد کے باعث ٹوٹ نہیں رہا ہے لیکن عدم برداشت کے خلاف فنکاروں اور مصنفوں کا احتجاج اُس سطح کا نہیں ہے جتنا رد عمل ہونا چاہیے تھا۔ اِس بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ اعلیٰ حکومتی حکام جس میں مودی بھی شامل ہیں، سنجیدگی سے مذمت کرنا چاہتے ہیں یا اُنھیں یہ سب کرنے کی باضابطہ اجازت دے گئی ہے۔

حالات کو خراب کرنے میں مودی اور اُن کی سینیئر وزیروں نے اِن حادثات اور نفرت انگیز تقریروں کے خلاف بولنے میں کوئی جلدی نہیں دکھائی اور جب اُنھوں نے ایسا کیا تو وہ ایسے بولے جس سے یہ محسوس ہوا کہ پہلے سے تحریر کیے گئے الفاظ ادا کر رہے ہوں۔

مثال کے طور پر وزیر خزانہ آرون جیٹلی نے کہا تھا کہ مسلمان شخص کا قتل حقیقت میں بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں بڑھتے ہوئی عدم برداشت پر کئی ادیبوں، مصنفوں نے احتجاجاً اپنے ایوارڈ واپس کر دیے ہیں

لیکن برسراقتدار بی جے پی اور مودی کے حمامیوں کی جانب سے عامر خان کے خلاف شدید عوامی اور سوشل میڈیا پر ردعمل، ممکنہ طور پر آج کے بھارت میں سخت رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ایک اضافہ ہے جس کو مبصر مودی کے ’سخت گیر حمامیوں کی قسم‘ قرار دیتے ہیں۔ آزاد خیال مخالفین مضحکہ خیز انداز میں اِن کو بھگت کہتے ہیں۔ بھگت سے مراد دیوتا کی عبادت کرنے والے ہیں۔

وہ چاپلوس نہیں ہیں، پرانے زمانے کے خوشامدی جیسے کہ بھارت کے رہنما ہوا کرتے تھے۔

مودی کے ساتھ اُن کی شناخت صرف جوشیلی حمایت نہیں ہے بلکہ وہ اپنے رہنما کا جارحانہ اور شناخت کے احساس کے ساتھ دفاع کر رہے ہیں جو کہ بھارت میں بے مثال ہے۔ کچھ لوگ اِس صورتحال میں خود ساختہ دانشور سرپرستوں جیسا برتاؤ بھی کر رہے ہیں۔

سازش

بہت سے حامیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دنیا مودی کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جن کے ماضی میں تحفظات تھے وہ اُن کے خلاف ہیں اور وہ لوگ موجودہ حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کے قابل نہیں ہو رہے ہیں کہ مودی وزیراعظم بن چکے ہیں۔

عامر خان نے سنہ 2002 میں گجرات فسادات کی بھی مذمت کی تھی۔

تجزیہ کار پرتاپ بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ ’شاید ہم میں سے بہت سے لوگ شدت سے ایک مضبوط رہنما کی تلاش میں تھے اور جب ہمیں لگا کہ ہم نے اُس کو ڈھونڈ لیا ہے تو ہم نے اُن کو منتخب کر کے اقتدار دے دیا۔ اب ہم نے تمام نقطۂ نظر کھو دیے ہیں۔‘

دوسری بات مودی پر تنقید کو تیزی سے بھارت کی بدنامی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ جونیئر وزیر داخلہ کیرن رجو کا کہنا ہے کہ عدم برداشت کے حوالے سے عامر خان کا بیان ’بھارت اور وزیر اعظم کے تشخص کو کم کرنے کے مترادف ہے۔‘

تیسری اور سب سے پریشان کُن بات یہ ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کو یہ بتانے کا رجحان ہے کہ اُنھیں بھارت کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اُن کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

بھیس بدل کر فرقہ واریت

بالی ووڈ کے ادا کار انوپم کھیر کا جو کہ مودی کے کٹر حامی بھی ہیں، کہنا ہے کہ عامر خان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ’عامر خان کو اِس ملک نے بنایا ہے۔‘

بی جے پی کے سربراہ امت شاہ نے بہار کے حالیہ انتخابات میں شکست پر پاکستان میں جشن کے بارے میں گفتگو کی۔ (پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سرحد کے پار اِس طرح کے جشن کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں مشتعل افراد نے ہلاک کر دیا تھا

پارٹی کے سینیئر رہنما گیراج سنگھ نے واضح الفاظ میں یہ کہا تھا کہ ’جو لوگ مودی کی مخالفت کررہے ہیں اُنھیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔‘

لیکن یہاں اُمید ہے

سوشل میڈیا کی دنیا سے دور زیادہ تر بھارتیوں نے اپنے آپ کو بہت زیادہ پرسکون اور زیادہ وہمی ثابت کیا ہے۔ اور اِس کی سب سے بہترین مثال بہار میں ہونے والے حالیہ انتخابات ہیں۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ خاموشی اور کام نہ کرنے سے بے چینی جنم لیتی ہے۔

منگل کو جب صحافیوں کے ایوارڈ کی تقریب میں عامر خان نے یہ بیان دیا تو وہاں بہت سارے وفاقی وزیر بھی موجود تھے۔ کئی افراد کو لگتا ہے کہ وہاں موجود سب سے زیادہ سینیئر وزیر آرون جیٹلی کیوں کھڑے نہیں ہوئے اور کہا کہ وہ اداکار کی پریشانی سمجھتے ہیں اور اُن کی حکومت یہ یقین دلاتی ہے کہ ہر بھارتی شہری، عقائد سے قطع نظر، محفوظ ہے۔

کیوں مودی اور اُن کے وزرا اِن چیزوں کا کھل کر اظہار نہیں کرہے ہیں؟

اسی بارے میں