بنگلہ دیش میں مسجد پر حملہ، ایک ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک بعد پہلے گرنیڈ حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے

شمالی بنگلہ دیش میں ایک مسلح شخص نے مسجد کے نمازیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بنگلہ دیش کے ضلع بوگرہ میں پیش آیا۔

پبلشر کا قتل

رواں سال میں چوتھے بلاگر کا قتل

یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکہ میں شیعہ مسلک کے ایک مزار پر حملے کے ایک ماہ بعد پیش آیا ہے۔ گرنیڈ سے کیے جانے والے اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں میں متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں غیر ملکیوں اور سیکیولر بلاگرز پر کیے جانے والے حملے بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے واقعے سے ایک ہی روز پہلے پولیس نے کہا تھا کہ شدت پسند رہنما البانی کو ہلاک کر دیا گیا ہے جو کہ 24 اکتوبر کو ہونے والے گرنیڈ حملے کے مشتبہ ملزم تھے۔

پولیس کے مطابق البانی جماعت المجاہدین کے ملٹری ونگ کے سربراہ تھے اور ان کی ہلاکت دو طرفہ فائرنگ کے دوران اس وقت ہوئی جب پولیس نے انھیں حراست میں لینے کی کوشش کی۔

نام نہاد شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ نے اکتوبر میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم حکومت نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ بنگلہ دیش میں متحرک نہیں ہے اور اس حملے کی ذمہ دار مقامی جنگجو تنظیم جے بی ایم ہے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں سنی فرقے کی اکثریت آباد ہے تاہم شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر حملے بہت ہی کم دیکھنے میں آئے ہیں۔

ستمبر میں اٹلی کے ایک امدادی کارکن جبکہ اکتوبر میں جاپانی باشندے کی ہلاکتکا واقعہ پیش آیا تھا۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے ہی قبول کی تھی۔

گذشتہ ہفتے بھی ضلع دیناجپور میں ایک مسلح شخص نے اطالوی پادری کو زخمی کر دیا تھا تاہم کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

رواں برس میں انتہا پسندوں نے بڑے حملوں میں سیکیولر رائٹرز کو ہلاک کیا تھا جن میں چار بلاگرز شامل تھے۔

اسی بارے میں