بیجنگ فضائی آلودگی کی لپیٹ میں، الرٹ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بعض علاقوں میں دھند اور دھوئیں کے باعث اندھیرا چھا گیا ہے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام میں دھند اور دھوئیں سے آلود فضا کے حوالے سے اس سال کا سب سے بڑا انتباہ جاری کیا ہے۔

اتوار کو ’نارنجی سطح‘ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے جو دوسری بلند ترین سطح ہے۔ اس صورت میں کارخانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پیدوار کم کر دیں ۔

فضائی آلودگی دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں میں رہنے والوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نارنجی سطح کے الرٹ کا مطلب کارخانوں اور صنعتنی مراکز کو بند کرنا یا ان کی پیداوار کم کرنا ہے۔

تعمیراتی مقامات پر تعمیراتی سامان کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے اور شہر کی سڑکوں پر بڑے ٹرکوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں محض چند سو میٹر تک دیکھا جاسکتا ہے۔

اتوار کی شام کو بیجنگ میں امریکی سفارت خانے میں نصب فضائی آلودگی ناپنے والے آلے کے مطابق فضا میں زہریلی ہوا اور پی ایم 2.5 کے چھوٹے ٹکڑوں کی شرح کچھ علاقوں میں 400 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 25 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کی شرح محفوظ ہوتی ہے۔

کوئلے سے چلنے والی کارخانوں اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والے گردغبار سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ حبس اور ہواؤں کی بندش سے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

بدھ تک موسم میں ٹھنڈک کی امید ہے جس سے ماحول میں کچھ بہتری ہوسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین میں فضائی آلودگی سے بدترین طور پر متاثرہ شہر ملک کے شمال مشرقی حصے میں ہیں

فضائی آلودگی چین کے شمال مشرقی علاقوں کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے جہاں کوئلے کی کانوں سمیت بڑے صنعتی مراکز قائم ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور بہت سارے رہائشیوں نےشمال مشرقی شہر شنیانگ میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں چین کی وزارتِ ماحولیات نے اعلان کیا تھا کہ سنہ 2014 میں ملک کے 74 بڑے شہروں میں سے صرف آٹھ ملک کے فضائی معیار پر پورا اترے تھے۔

چین میں فضائی آلودگی سے بدترین طور پر متاثرہ شہر ملک کے شمال مشرقی حصے میں ہیں۔

چین آلودگی میں کمی کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاہم ابھی بھی وہ توانائی اور صنعتی ضروریات کے لیے کوئلے پر انحصار کر رہا ہے۔

اسی بارے میں