کیا عدم رواداری کی ذمہ دار بی جے پی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کو ایوارڈز کی واپسی کی تحریک میں سائنسدان، تاریخ دان اور فلم ساز بھی شامل ہوچکے ہیں

بھارت میں حالیہ چند ہفتوں میں اداکاروں، دانشوروں اور سائنس دانوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

مصنفین کی جانب سے حکومت کو ایوارڈز کی واپسی کی جو تحریک شروع ہوئی تھی اس میں سائنس دان، تاریخ دان اور فلم ساز بھی شامل ہو چکے ہیں۔

بھارت اور بیرون ملک بسنے والے تقریباً 200 اساتذہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی ’عدم رواداری اور تعصب‘ کے خلاف ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔

یہاں تک کہ عامر خان اور شاہ رخ خان جیسے اداکاروں نے بھی اس موضوع پر بات کی ہے۔ پارلیمان میں موسم سرما کے اجلاس میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے بڑھتی ہوئی رواداری پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے اس ضمن میں ایم ایم کلبرگی اور گوند پنسارے جیسے عقلیت پسندوں کو جان سے مارنے اور گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص کو ہلاک کرنے جیسے واقعات کا حوالہ دیا ہے۔

تاہم بہت سارے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت میں اچانک عدم رواداری پروان نہیں چڑھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سارے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت میں اچانک عدم رواداری پروان نہیں چڑھی

کتابوں اور فلموں پر عرصہ دراز سے پابندیاں عائد ہوتی رہی ہیں۔ ملک بھر میں لکھاریوں اور فنکاروں کو سیاسی جماعتوں اور دیگر گروہوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

تجزیہ کار موکو کیساون کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کا لبرل اقدار کے تحفظ کے حوالے سے کوئی شاندار ریکارڈ نہیں رہا ہے۔

تو کیا بھارت کو اکثریتی سیاست کی جانب سے ایک نئی طرز کی عدم رواداری کا سامنا ہے؟ یا جیسا کہ تجزیہ کار ٹی این نینن کہتے ہیں کہ عدم رواداری کا کچھ حصہ ایک پیچیدہ قوم کے ’ترقی سے جڑے معاشرتی غصے‘سے متعلق ہے؟

سنجے سبرامنیم فرانس اور امریکہ میں پڑھاتے ہیں اور ان کا شمار بھارت کے بہترین تاریخ دانوں میں ہوتا ہے۔ میں نے ان سے نریندر مودی کے زیراثر بھارت میں عدم روادی کے پھیلاؤ کے بارے میں بات چیت کی۔

سنجے سبرامنیم کہتے ہپیں کہ ’میں تقریباً ایک سال سے بھارت نہیں گیا لہذا میرا مشاہدہ دور سے ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی کے پاس پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے جسے اپنے اس ایجنڈے کے نفاذ کا موقع سمجھا جا سکتا ہے جسے وہ سنہ 2004-1998 میں نہیں کر سکے تھے۔

’لوگ اس بارے میں زیادہ خدشہ ظاہر نہ کرتے اگر یہ اتحادی حکومت ہوتی۔‘

’مزید یہ کہ موجودہ وفاقی حکومت مسلسل دو زبانیں بول رہی ہے۔ ایک زیادہ مناسب اورصبرو تحمل والی اور دوسری زیادہ اودھم مچانے والی اور جارح۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ ‘اچھا پولیس والا، برا پولیس والا‘ جیسی پالیسی جیسی ہے۔ یہ واقعی پریشان کن ہے اگر یہ حکومت کے آئندہ پانچ برسوں میں روایت بن جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ UCLA
Image caption سنجے سبرامنیم فرانس اور امریکہ میں پڑھاتے ہیں اور ان کا شمار بھارت کے بہترین تاریخ دانوں میں ہوتا ہے

سنجے سبرامنیم کہتے ہیں: ‘یہ سچ ہے کہ آزاد بھارت میں ’لبرل اقدار‘ کمزور رہی ہیں۔ ان کو نشانہ بنانے کے معاملے میں بی جے پی تنہا نہیں ہے۔ کچھ جماعتیں واقعی طور پر اصل سیاسی لبرل ازم کا مظہر ہیں۔

’اگر دو جیب کترے مجھے لوٹ لیتے ہیں، تو کیا یہ کوئی مداوا ہے؟ اگر حالیہ سیاسی ماحول میں تنقید سیاسی بنیادوں پر ہوتی اور صرف ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہوتی جن کا اپنا ماضی تاریک ہے (جیسا کہ کانگریس) تو پر یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ ہوتا۔‘

سنجے سبرامنیم کے مطابق یہ تنقید سول سوسائٹی کی ارکان کی جانب سے کی جارہی ہے جو خوفزدہ ہیں، اور جب وہ پرامن انداز میں احتجاج کرتے ہیں تو انھیں ظالمانہ انداز میں ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جانے کا کہنا جاتا ہے۔

سنجے سبرامینم بی جے پی کی حالیہ حکومت اور گذشتہ ادوار سے کرتے ہوئے ہیں کہ جب اشتعال انگیزی عام بات چیت کا حصہ بن جائے تو خدشات لاحق ہونے کی بہت سی وجوہات سامنے آتی ہیں۔

’بی جے پی صرف تنہا گروہ نہیں جو ایسا کرتا ہے، لیکن وہ بھارت میں بہت سارے حصوں میں حکومت میں ہیں۔‘

’اگر میں پاکستان میں رہتا ہوتا تو میرے خدشات سلافیوں کے بارے میں ہوتے، اگر فرانس میں رہتا تو فرنٹ نیشنل کے بارے میں ، جو اکثریتی زبان استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’فرانسیسی ہماری شرائط پر بنو یا پھر انجام کے لیے تیار رہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہمیں اپنے حال اور ماضی کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے: سنجے سبرامنیم

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے خلاف احتجاج کی ضرورت ہے، جیسا سنہ 1975 کی ایمرجنسی کے خلاف ہوا، یا نندی گرام (کی ہلاکتوں) پر احتجاج کی ضرورت پیش آئی تھی۔ ہم بی جے پی کی دھونس کو رعایت کیوں دی جائے؟‘

تہذیبی طور پر بھارت کے روادار ہونے کے بارے میں سنجے سبرامنیم کہتے ہیں کہ تاریخی مقام ہونے کے لحاظ سے، بھارت دنیا کے کسی دوسرے حصے سے کمتر یا بہتر نہیں ہے۔

’ہمیں یہ دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم باقی تمام سے بہتر ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہم نہیں ہیں، ہمیں اپنے حال اور ماضی کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’بھارتی تاریخ کا ایک طالب علم اس کے ماضی میں مذہب، ذات، رنگ، غیروں سے نفرت یا سیاسی طور ہونے والے تشدد کی کمی نہیں دیکھتا۔‘

سنجے سبرامنیم کے مطابق بھارت میں کبھی بھی ’سنہری دور‘ نہیں رہا۔ کچھ ایسے مواقعے رہے ہیں جس میں رواداری اور مل جل کر ایک ساتھ رہا گیا ہے لیکن دراصل یہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہے یہ قانون نہیں رہا۔

اسی بارے میں