’تاج محل کے مندر ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تاج محل ایک عرصے سے تنازعے کا شکار ہے لیکن حکومت کی جانب سے پہلی بار اس سلسلے میں اہم جواب آیا ہے

بھارت کی حکومت نے عدالت کو بتایا ہے کہ اسے اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آگرہ میں واقع تاج محل ماضی میں ہندوؤں کا کوئی مندر تھا۔

یہ بات وزیر ثقافت مہیش شرما نے پیر کو ایوان زیریں میں بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ آگرہ میں چند وکلا کی جانب سے دائر ایک مقدمے کے سلسلے میں تحریری طور پر یہ جواب دیا گیا ہے۔

اس مقدمے کہا گيا تھا کہ تاج محل کو ہندو مندر قرار دیا جائے اور ہندوؤں کو وہاں پوجا کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ شیو مندر ہے اور مسلمانوں کو وہاں عبادت سے باز رکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تنازعے کا اثر سیاحت پر نظر نہیں آيا ہے

وزیر ثقافت نے بتایا کہ انھیں یہ علم ہے تاج محل کے سلسلے میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے لیکن اس کا ہندوؤں سے تعلق ہونے کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ہیں۔

اس سے قبل بھارت کے محکمۂ آثار قدیمہ نے بھی اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ آگرہ میں موجود 17 ویں صدی کے مغل فن تعمیر کے اس نمونے کا ہندوؤں سے کوئی تعلق ہے۔

مہیش شرما نے یہ بھی کہا کہ اس تنازعے کی وجہ سے حکومت کو ابھی تک تاج محل کی سیاحت کے سلسلے میں کوئی منفی اثر نظر نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک متنازع ہندو مورخ نے کچھ عرصہ پہلے یہ بحث شروع کی تھی اور اترپردیش میں بی جے پی کے صدر اسے آگے بڑھا رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ فن تعمیر کا یہ نمونہ دراصل ایک قدیم مندر کا حصہ ہے جو ہندو راجہ جے سنگھ نے بنوایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ٹوئٹر پر تاج محل کے متعلق زور و شور سے بحث جاری ہے

حکومتی اعلان کے بعد بھارت میں ٹوئٹر پر تاج محل مستقل ٹرینڈ کر رہا ہے اور ملے جلے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ nurani49v@ نے لکھا ہے کہ ’کیا وزیر اعظم کے دفتر سے اس رپورٹ کے نتائج جاری کیے جائیں گے اور کیا بھارتی حکومت ہندوؤں کے خلاف عدم روادار ہو رہی ہے۔‘

ایک اور ٹوئٹر ہینڈل rimjhimsaikia@ پر رم جھم سیکیا نے لکھا: ’اس سے کیا فرق پڑتا کہ تاج محل ہندو مندر ہے یا کسی مسلمان نے بنوایا تھا۔ کیا ہم اسے صرف محبت کی نشانی کے طور پر قبول نہیں کر سکتے؟‘

اسی بارے میں