راجیوگاندھی کے قاتل جیل میں ہی رہیں گے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں سنتھن، مروگن، پیراریولن، نلنی، رابرٹ پایس، جے كمار اور روی چندرن جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں

بھارت میں سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی قتل معاملے میں کہا ہے کہ کسی کی سزا کو معاف کرنے کا حق ریاستی حکومت کے بجائے مرکزی حکومت کے پاس ہے۔

عدالت عظمی سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے سات مجرموں کی سزا معاف کرنے کے تمل ناڈو ریاست کے فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔

راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی کی سفارش

راجیو قتل: مجرموں کی رہائی کا عمل روکنے کا حکم

سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے اس فیصلے کے بعد اب راجیو گاندھی کے قتل کے ساتوں مجرم جیل میں ہی رہیں گے۔

اس سے قبل تمل ناڈو کی حکومت نے انھیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption راجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا

عدالت نے کہا کہ جس معاملے کی تحقیقات میں مرکزی ایجنسياں شامل ہوں یا جنھیں مرکزی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو، ان کی سزا کی معافی کا حق مرکزی حکومت کے پاس ہے نہ کہ ریاستی حکومت کے پاس۔

عدالت نے کہا کہ عمر قید کا مطلب تا حیات قید میں ہی رکھنا ہوتا ہے۔

تمل ناڈو کی جے للتا حکومت نے گذشتہ سال راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں جیل میں قید سات قیدیوں کی رہائی کے لیے مرکزی حکومت سے سفارش کی تھی۔

خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس قتل کے الزام میں سنتھن، مروگن، پیراریولن، نلنی، رابرٹ پایس، جے كمار اور روی چندرن جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں