’بھارت میں گائے مسلمانوں سے زیادہ محفوظ‘

تصویر کے کاپی رائٹ PIB

بھارتی لوک سبھا کے رکن ششی تھرور نے گذشتہ روز پارلیمان میں بات کرتے ہوئے کہا اُن کے ایک بنگلہ دیشی دوست نے انھیں کہا کہ بھارت میں ’ایک گائے ہونا مسلمان ہونے سے زیادہ تحفظ کی علامت‘ ہے۔

ششی تھرور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ایک بنگلہ دیشی دوست نے انھیں یہ بھی کہا کہ اُن کے ملک کے بنیاد پرست اُن پر اس طرح کی بات کرتے ہوئے حملہ کرتے ہیں۔

کانگریس کے رہنما نے کہا کہ بھارت کو تنوع کے احترام کی بنیاد پر بنایا گیا تھا اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے قائم رکھے۔ ’بھارت میں نفرت کا پرچار اور بیرونِ ملک میک ان انڈیا کی تشہیر ایک ساتھ نہیں چل سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انھیں شرم آتی ہے جب بھارت کو اس سے بدنامی ہوتی ہے۔‘

ششی تھرور کا نام رات سے پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان کے اس بیان کو پسند کیا جا رہا ہے، مگر بھارت میں بہت سے لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس حوالے سے اُن کی ذاتی زندگی پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

گوجندر کھٹکر نے ششی تھرور کو مخاطب کر کے لکھا: ’بہت برا لگا کہ آپ جیسا پڑھا لکھا آدمی ہندو مذہب کے نام پر مذہبی سیاست کر رہا ہے۔‘

لنڈزے پریرا نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ششی تھرور اتنا زیادہ وقت اپنے بال کالے کرنے میں لگاتے ہیں جتنا شاید کرن کھیر اور سمرتی ایرانی لگاتی ہوں گی۔‘

فلم ناقد شوبھا ڈی نے ششی تھرور سے کہا کہ ’بھارت کے لیے یہ قدم اٹھائیں۔ پلیز ایک پرائیویٹ ممبرز بل جمع کروائیں جس میں سیکشن 377 کو ختم کرنے کی استدعا کی جائے۔‘

اسی بارے میں