دہلی کی آلودگی کا حل، ’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا ہے

بھارتی ریاست دہلی کے وزیر اعلی کی جانب سے شہر میں آلودگی کم کرنے کا فیصلہ تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔

انھوں نے آلودگی کم کرنے کے لیے ایک دن طاق عدد والی نجی گاڑیوں کو چلانے اور دوسرے دن جفت عدد نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

دہلی کی آلودگی کا حل ’کار فری ڈے‘؟

دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں

ماہرین اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس منصوبے میں شامل پریشانیوں کے تحت اس کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹيگ DelhiOddEvenLogic# ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ اس منصوبے کو تجربے کے طور پر کچھ دنوں کے لیے آزمایا جائے گا اور اگر اس سے مسائل میں بہت اضافہ ہوتا ہے تو اسے روک دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی میں حالیہ دنوں آلودگی کم کرنے کی کوشش کے تحت کار فری ڈے کا بھی عزم سامنے آیا ہے

اخبار ہندوستان ٹائمز کی ’لیڈرشپ سمٹ‘ میں وزیر اعلی کیجریوال نے کہا: ’نظریاتی طور پر ایک فیصلہ کیا گیا ہے۔ کئی چیزیوں پر اب بھی غور و خوض جاری ہے۔ تھوڑے وقت تک منصوبے پر عمل کریں گے۔ شاید 15 دنوں تک۔ اگر بہت سے مسائل ہوتے ہیں تو اسے روک دیا جائے گا۔‘

کیجریوال نے کہا کہ ان کی حکومت اس منصوبے کو پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے کے بعد نافذ کرنا چاہتی تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہے جانے کے بعد جس طرح کے حالات پیدا ہوئے اس کے سبب اسے فوری طور پر نافذ کرنا پڑا۔

دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے دہلی حکومت نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ جفت اور طاق نمبروں والی گاڑیوں کو ایک دن چھوڑ کر ہی سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ منصوبہ یکم جنوری سے نافذ ہونا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آلودگی کی سطح دہلی میں خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے

معروف ناول نگار چیتن بھگت کو اس کی مخالفت کرنے پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا تھا: ’ایسے وقت میں جب معاشی ترقی اور روزگار کی ضرورت ہے کوئی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ نصف گاڑیاں سڑک پر نہیں آئے اور پیداوار کو نقصان پہنچائے۔ بہت اچھے۔‘

دوسری جانب سابق وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے پیرس سے جہاں عالمی ماحولیات پر کانفرنس جاری ہے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ انھوں نے بھی دہلی میں آلودگی کم کرنے کے لیے وزیر اعلی شیلا دیکشت کے سامنے یہ طریقہ تجویز کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

اسی بارے میں