ملا اختر منصور کی ہلاکت کا کوئی ثبوت نہیں ہے: اشرف غنی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بارے میں ’کوئی ثبوت نہیں‘ ہے۔

افغان صدر طالبان کے جانب سے امیر ملا اختر منصور سے منسوب ایک صوتی بیان جاری کیے جانے کے بعد گفتگو کر رہے تھے۔

افغان طالبان کا ’ملا اختر منصور سے منسوب بیان‘ جاری

افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور فائرنگ سے ’زخمی‘

افغان طالبان میں قیادت پر اختلافات، نیا دھڑا تشکیل

پیر کو افغان صدر اشرف غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا: ’منصور کی ہلاکت کے بارے میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘

وہ گذشتہ منگل کو کوئٹہ کے قریب ایک جھڑپ کا حوالہ دے رہے تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ملا منصور شدید زخمی ہیں جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ چار طالبان عسکریت پسندوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے‘

تاہم سنیچر کو افغانستان میں طالبان نے اپنے امیر ملا اختر منصور سے منسوب ایک صوتی بیان جاری کیا گیا جس میں انھوں نے اپنے زخمی یا ہلاک ہونے ہو جانے کی اطلاعات کو دشمن کا پرچار قرار دیا۔

پیغام میں’ملا منصور اختر‘ نے کہا کہ وہ زندہ سلامت ہیں اور اپنے دوستوں کے درمیان ہیں اور وہ کبھی بلوچستان کے علاقے کچلاک نہیں گئے۔

خیال رہے کہ جولائی میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

اسی بارے میں