آئے دن کا احتجاج، قانون سازی میں تعطل

Image caption بھارت دنیا کی سب سے بڑی جہموریت تصور کی جاتی ہے

بہت سے بھارتی شہریوں کا خیال ہے کہ ملک کی پارلیمان قانون سازی میں تعطل اور آئے دن کے شور شرابے کی وجہ سے اپنی افادیت اور حیثیت کھوتی جا رہی ہے۔ کسی حد تک یہ خیال درست ہے لیکن مکمل طور پر نہیں۔

بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے انتخابات یہ تعین کرنے کے لیے کہ کون حکومت قائم کرے گا نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ کوئی بھی انتخابی عمل پر حرف نہیں اٹھاتا۔ گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی الیکشن کمیشن نے بڑی کامیابی سے ملک میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے رکھا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے سنہ 2014 کے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرلی اور گذشتہ تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ لوک سبھا میں سادہ اکثریت لے کر حکومت تشکیل دینے کے قابل ہو گئی۔ لیکن وہ اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد نہیں کر سکے۔

ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ پارلیمان کے دوسرے ایوان راجیہ سبھا میں ان کی جماعت کو مطلوبہ تعداد کا حاصل نہ ہونا ہے۔ ایوان بالا کی کل تعداد کے ایک تہائی ارکان کا ہر دو سال بعد انتخاب ہوتا ہے جو کہ عوام نہیں بلکہ ریاستی اسمبلیوں کے اراکین کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کی منتخب حیثیت ایوان زیریں سے مختلف ہو جاتی ہے۔

Image caption نریندر مودی کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے

لیکن 1991 کی اصلاحات سے قبل برطانوی دارلعمرا کی طرح راجیہ سبھا قانون سازی کے عمل کو تاخیر کا شکار کر سکتی ہے اور یہ مکمل طور پر اس کو روک بھی سکتی ہے۔ حقیقت میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے اور حکومت کی تمام قانون سازی ایوان بالا میں التوا میں پڑی ہوئی ہے۔

کانگریس پارٹی لوک سبھا میں اپنی اکثریت کھونے کے باوجود راجیہ سبھا میں اب بھی اکثریت رکھتی ہے ۔ فی الوقت حکومت 2016 اور 2018 کے راجیہ سبھا کے انتخابات کے انتظار کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی، جب اسے راجیہ سبھا میں اپنی پوزیش مستحکم کرنے کا موقع ملے گا۔

لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حزب اقتدار لوک سبھا میں اپنی تمام تر اکثریت کے باوجود وہ کچھ نہیں کر پاتی جو یہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کی صرف اور صرف وجہ احتجاج اور شور شرابے کی سیاست ہے جو حزب اختلاف کا ایک وطیرہ یا روایت بن گئی ہے۔ ایوان میں نظم قائم رکھنے کے لیے بلاشبہ قواعد و ضوابط موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔ کچھ مواقعوں پر سپیکر نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے پر کئی اراکین کی رکنیت بھی معطل کی ہے لیکن اس پر انھیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کانگریس جس کے 543 ارکان کے ایوان میں صرف 45 اراکین ہیں اکثر ایوان کی کارروائی کو ہنگامہ اور شور شرابا کرکے معطل کر دیتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی ان کے دورۂ اقتدار میں کیا کرتی تھی۔ ہنگامہ کرنے میں دیگر چھوٹی پارٹیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔

Image caption حزب اختلاف بڑی کامیابی سے حکومتی ایجنڈے پر عملدرآمد کو روکے ہوئے ہے

یہ صورت حال اہم پالیسیوں اور فیصلوں پر قانون سازی کے عمل میں تکلیف دہ حد تک تاخیر کا باعث ہے۔ اس صورت حال کے دو نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

اول یہ کہ حکومت اس کوشش میں لگی رہتی ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کی پارلیمان سے منظوری حاصل نہ کرنی پڑے۔ اس طرز حکمرانی سے پیدا ہونے والے خلا کو متحرک عدلیہ پُر کرنے کے لیے تیار ہے۔ ملک کی سپریم کورٹ بھی معمولی نوعیت کے انتظامی امور میں دخل دینے پر مجبور ہے جن میں کوڑا ہٹانے اور ہاؤسنگ کالونیوں کی صفائی، پارکنگ ریٹ کا تعین اور تہواروں پر لاؤڈ سپیکروں اور آتش بازی کے استعمال جیسے معاملات شامل ہیں۔

اختیارات کا یوں سلب کیا جانا جو کہ بجا طور پر مقننہ کا استحقاق ہے آئین کے مختلف ستونوں کے درمیان اختیارات کا توازن بگاڑ دیتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ لوگ اب پارلیمان کی افادیت کے بارے میں سوالات کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

سب سے زیادہ بھارتی معاشرے کے دو طبقے شکایت کر رہے ہیں، جن میں سے ایک بزنس کرنے والے ہیں اور دوسرے متوسط یا درمیانے طبقے کے لوگ۔

Image caption بھارت میں پسماندہ طبقعات کے لوگوں میں ووٹ ڈالنے کا تناسب زیادہ ہے

بزنس کرنے والے چین کی اقتصادی ترقی کو ستائش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی معیشت چند دہائیوں قبل بھارت کے برابر تھی اور جس کا حجم بھارت کی معیشت سے پانچ گنا زیادہ ہو گیا ہے۔ تیز ترین رفتار سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں چین کو پیچھے چھوڑنے کے باوجود آج بھی بھارت میں کاروبار کرنا نہ صرف غیر ملکیوں کے لیے بلکہ بھارتی شہریوں کے لیے بھی دشوار ہے۔

اس وجہ سے ملک کا متوسط طبقہ جو چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک سے سب سے بڑا ہے اب اپنی توقعات اور خواہشات کے اعتبار سے عالمی سوچ کا حامل ہے۔ ایسے بھارت کو دیکھ کر جو اپنے لامتناحی وسائل کے باوجود اپنی ہی پیدا کردہ مشکلات میں پھنسا ہوا ہے یہ مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوتا ہے۔ بھارت کی مڈل کلاس یا متوسط طبقعہ اپنے حجم کے باوجود کل آبادی کے ایک چوتھائی حصے سے ذرا زیادہ ہے۔

مزید براں یہ کسی حد تک لا تعلق بھی ہے اور غریب اور پسماندہ طبقات کے مقابلے میں اس کا ووٹ ڈالنے کا تناسب بہت کم ہے۔

لیکن یہ صورت حال بدل رہی ہے۔ متوسط طبقہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کرپشن اور دیگر معاشرتی مسائل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی اور تحریک سے یہ بھی سیاسی معاملات کی طرف مائل ہو رہا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی سرگرمی جلد ہی لوک سبھا کی کئی نشستوں میں اتنی اہمیت اختیار کر سکتی ہے کہ منتخب اراکین ان کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ڈھلنے لگیں گے۔ ماضی میں سیاسی تلخیاں ایک حد تک محدود ہوا کرتی تھیں اور نجی محفلوں میں دوستانہ روابط رہتے تھے لیکن اب مخاصمانہ تعلقات ذاتی رنجشوں کا باعث بھی بنے لگے ہیں۔

اس صورت حال پر قابو پانا مشکل نہیں ہے جیسا کہ گذشتہ ہفتے وزیر اعظم نے اپنے پیش رو سے ملاقات کی۔ اس سے پارلیمان کے بہتر انداز میں کام کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

لیکن پارلیمان کی افادیت کو بہتر بنانا ایک پیچیدہ اور دقت طلب عمل ہوگا جس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

سیاسی اصلاحات کا عمل دوسرے جمہوری ملکوں میں کئی دہائیوں کی بحث اور مسلسل کوششوں کے بعد مکمن ہوا کرتا ہے اور بھارت بھی اس سلسلے میں کوئی مختلف نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں