’دہلی گیس چیمبر بن گیا ہے‘

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی میں اضافے کے بارے میں پایا جانے والا غصہ نیا نہیں ہے۔

دہلی میں پائی جانے والی فضائی آلودگی کا معیار ایک بار پھر خوفناک بن چکا ہے۔

بھارت میں فضائی آلودگی سے آگاہ کرنے والا نظام

نئی دہلی کی ’قاتل‘ فضا سے شہری پریشان

دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں

بھارت میں ہوا کے گرتے معیار کی وجہ سے عوام کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

تارکینِ وطن ناروے سے موصول ہونے والی ان اطلاعات پر تشویش میں مبتلا ہیں جن میں دہلی کی فضائی آلودگی کی درجہ بندی کو ایک ’مصیبت‘ قرار دیا گیا ہے۔

ان اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ دہلی کی فضائی آلودگی کی وجہ سے وہاں موجود ایک بین الاقوامی سکول نے باہر کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے۔

بھارت کی ایک عدالت نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ دہلی فضائی آلودگی کی وجہ سے ’گیس چیمبر‘ بن چکا ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ دنیا کا پانچویں بڑا شہر دہلی ایک عرصے سے سردیوں کے موسم میں گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ دہلی کی گندی ہوا کا بڑا سبب ڈیزل کا اخراج، تعمیراتی گرد، اینٹوں کا بھٹہ اور شہر کے ارد گرد کھیتوں میں فصل کی کٹائی کے بعد رہ جانے والی جڑیں ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ دہلی میں ایک اندازے کے مطابق 85 لاکھ گاڑیاں چلتی ہیں اور اس میں 1400 گاڑیاں روزانہ شہر کی گنجان آباد گلیوں میں چلتی ہیں جو اس کی فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔

بھارت میں پٹرول کی قیمتوں میں دی جانے والی رعایت کی وجہ سے لوگ ڈیزل والی گاڑیاں خرید رہے ہیں۔

بھارت میں سنہ 2012 میں کیے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی میں رہنے والے بچوں کے پھیپھڑے خراب ہونے کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دہلی میں سرد موسم کے دوران ایمرجنسی وارڈوں میں آنے والے افراد کو سانس کی تکلیف کی شکایت رہتی ہے۔

ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ 15 برس قبل دہلی میں فضائی آلودگی کی صورتِ حال بہتر تھی۔

دہلی کی فضائی آلودگی کو بہتر بنانے کے لیے اس کے میٹرو سٹیشنوں کے گرد گنجان آبادیوں کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔

دہلی میں آلودگی ٹیکس لگانے اور پارکنگ فیس بڑھانے سے شہر میں آنے والی گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

بھارتی دارالحکومت میں ڈیزل پر دی جانے والی رعایت کو ختم کرنے یا ڈیزل کی گاڑیوں پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے بھی فضائی آلودگی کم ہو گی۔

بھارتی حکومت کو چاہیے کہ زیادہ آلودگی والے دنوں کے دوران ڈیزل کے اخراج کو کم کرنے سے ہنگامی اقدامات کرے۔

تو کیا دہلی کی حکومت اس موسمِ سرما کے دوران آلودگی کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام کرے گی؟

ماحولیاتی وکیل رتوک دتا کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سردی کی شدت میں کمی آئے گی حالات نارمل ہو جائیں گے اور اس وقت تک کوئی بھی فصائی آلودگی کے بارے میں بات نہیں کرے گا۔

بھارت اور بالخصوص دہلی میں فضائی آلودگی کے بارے میں سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس حوالے سے سنہ 1981 میں بنائے جانے والے قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی ایک وکیل نے مجھے بتایا کہ فضائی آلودگی کے حوالے سے موجود قوانین کے تحت کسی ایک فرد کو بھی سزا نہیں دی گئی حالانکہ اس کی کم سے کم سزا 18 ماہ قید ہے۔

روئے چوہدری کے مطابق ’بھارت میں آنے والی حکومتیں ان رعایتوں کو ختم کرنے سے کتراتی رہی ہیں جن کا حتمی فائدہ امیروں کو ہوتا ہے اور تمام سیاست دانوں کو عوام کی مخالفت کا ڈر ہوتا ہے۔‘

بھارت میں گذشتہ ہفتے نیشنل گرین ٹربیونل نے حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا پرانی گاڑیوں کو دہلی سے دوسرے شہروں میں بھیجا جا سکتا ہے جہاں فضائی آلودگی کم ہو؟

بھارت میں اس حوالے سے میڈیا کا کردار بھی مددگار ثابت نہیں ہوتا۔ جب ملحقہ پنجاب صوبے میں کھیتوں میں آگ لگائی جاتی ہے اور ان کا دھواں دہلی کی فضا پر چھا جاتا تو میڈیا میں اس حوالے سے کوئی خبر نہیں دی جاتی کہ اس سے پنجاب میں رہنے والے افراد کی زندگی کیسے متاثر ہو رہی ہیں۔

بھارت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ایک قومی آفت ہے تاہم میڈیا اور پالیسی میکر اسے صرف دہلی کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

دنیا کے 20 بڑے شہرگنجان آباد شہروں میں سے 13 بھارت میں ہیں، تو باقی 12 شہروں کے بارے میں کیا کہا جائے۔

ماحولیاتی وکیل رتوک دتا کا کہنا ہے کہ بھارت کے دیگر شہروں کے مقابلے میں دہلی کی فضائی آلودگی کے بارے میں حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا چاہیے تاہم اس حوالے سے اقدامات کو نظر انداز کرنا یا فضائی آلودگی کو ہمسائی ریاستوں تک منتقل کرنا خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہو گا۔

اسی بارے میں