’اب پھر محبت کی باتیں کرنے کا موسم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی تاریخ کو اگر مد نظر رکھا جائے تو جامع مذاکرات کی دوبارہ بحالی کا اعلان دونوں ملکوں کے عوام کے لیے ایک موہوم سی امید سے زیادہ کچھ نہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے جب اسلام آباد پہنچی تو ان کے بقول وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔

پاکستان بھارت تعلقات: نواز مودی دہلی سے اوفا تک

پاک بھارت تعلقات: اوفا کے بعد اب دہلی کا سفر

وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے مئی 2014 کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد تعلقات کو آگے بڑھانے کی بات تو ہوئی لیکن اسی بات کو دوبارہ دہرانے میں دونوں ملکوں کو 14 ماہ کا عرصہ لگا گیا۔ اس سال جولائی میں روس کے شہر اوفا میں نواز اور مودی کی ایک اور ملاقات ہوئی لیکن اس کے بعد ہوا وہ ہی جو اس سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے۔

اگست میں دونوں ممالک کے سلامتی کے مشیروں نے دہلی میں بات چیت کرنا تھی لیکن کشمیری قیادت کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے اور بات چیت کو ہی منسوخ کر دیا گیا اور اس پر دونوں ہمسایوں نے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا بلکہ پہلے اوفا میں ہونے والے اتفاق رائے کے نکات بھی متنازع بن گئے۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر پہلے سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوا تاہم سرحدی کشیدگی میں اس وقت قابل ذکر حد تک کمی آئی جب ستمبر میں پاکستان کی سرحدی فور س پنجاب رینجرز کے وفد نے دہلی کا دورہ کیا جہاں بھارتی وزیر داخلہ نے اس وفد سے ملاقات میں یقین دلایا کہ بھارت سرحد پر گولہ باری میں پہل نہیں کرے جبکہ دونوں کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے اور اس کی خلاف ورزیوں کی مشترکہ تحقیقات کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک کی سرحدوں پر بندوقیں خاموشی ہو گئی لیکن دیگر باہمی معاملات پر خاموشی برقرار رہی جس میں اکتوبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے سے گریز کیا اور دور سے ہاتھ ہلا کر ’ہیلو ہائی‘ کرنے پر اکتفا کیا۔

اس دوران دونوں ممالک کے درمیان قابل ذکر سفارتی سرگرمی نظر نہیں آئی تاہم پاک بھارت کرکٹ سیریز خبروں میں نمایاں رہی جس میں پاکستان کے وزیر داخلہ تک نے کہہ دیا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت کا دورہ نہیں کرنا چاہیے تاہم اس میں پیش رفت ہوئی اور کسی حد تک دونوں ممالک نے سری لنکا میں یہ سیریز کرنے پراتفاق بھی کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جولائی میں اوفا میں ملاقات ہوئی

کرکٹ کے علاوہ بھارتی شہری گیتا بھی خبروں میں رہی جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے بھی ہوئے اور پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے کراچی میں ایدھی ہوم جا کر گیتا سے ملاقات بھی کی اور اس کے بعد 26 اکتوبر کو گیتا 13 برس بعد کراچی سے اپنے ملک بھارت پہنچ گئی۔

گیتا کے بھارت جانے کے بعد پاکستان کا ذکر بھارت میں عدم برداشت کے رویوں میں ہی آیا جس میں ہالی وڈ کے سٹارز کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا گیا۔

لیکن اس دوران پاکستانی وزیراعظم نے بظاہر خارجہ امور میں اہم تبدیلی کی جس میں مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے مشیر برائے سلامتی امور کا چارج لے کر حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کو 23 اکتوبر کوسلامتی کا مشیر مقرر کر دیا۔

اس کا ذکر یہاں اس لیے ضروری ہے کیونکہ خاص کر ہمسایہ ممالک پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کے اثرورسوخ کو محسوس کرتے ہیں اور سول قیادت سے براہ راست معاملات طے کرنے میں کسی حد تک ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan
Image caption پیرس میں ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئی

ان سارے معاملات میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان پیرس میں ملاقات سے پہلے دولتِ مشترکہ کے مالٹا میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ممکنہ ملاقات کا موقع تھا لیکن وزیراعظم مودی نے اس اجلاس میں شرکت نہیں تاہم نومبر کی 30 تاریخ کو پیرس میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں پر کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی نریندر مودی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی۔

یہ ہی ملاقات تھی جس میں سرد تعلقات کو ایک بار پھر نئی زندگی دی جس کے ٹھیک پانچ دن بعد چھ دسمبر کو اچانک خبر آئی کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں دہشت گردی، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام اُمور پر بات چیت کی گئی۔

میڈیا میں ملاقات کی خبر آنے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کی جانب سے نو نومبر کو دی گئی دعوت کو قبول کیا اور منگل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی پہنچی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Both Photos by AFP
Image caption دونوں ممالک نے ابھی تک کرکٹ سیریز پر فیصلہ نہیں کیا

کانفرنس کے اختتام پر بھارتی وزیر خارجہ سمشا سوراج نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے پر دونوں ممالک متفق ہیں تاہم اس سے پہلے انھوں نے کانفرنس سے خطاب میں بھارت کو پاکستان کے راستے افغانستان تک تجارتی رسائی دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے مفاد میں فی الوقت کوئی بھی چیز اس سے زیادہ اہم نہیں کہ اسے سڑک کے ذریعے مکمل طور پر بھارتی بازاروں تک رسائی ہو۔

دونوں ممالک نے اب تعلقات میں بہتری کے لیے ممبئی حملوں کے بعد پہلی بار جامع مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ بھارت نے اپنی افغانستان اور وہاں سے وسطی ایشیا تک پاکستان کے راستے رسائی کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور شاید پاکستان کے لیے اس کو پورا آسان نہیں ہو گا جب دونوں ممالک افغانستان میں ایک دوسرے پر پراکسی وار کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔

اس سے پہلے ماضی میں ایسے کئی مواقع آئے جب دونوں ہمسایوں نے اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے عہد کیے لیکن یہ کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ ان میں پہلے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے معاملات خراب ہونے کا تاثر ملتا تھا پھر بات دہشت گردی کے مسئلے پر آ کر رک جاتی اور اب شاید خطے میں بھارت کی معاشی میدان میں اثرو رسوخ بڑھانے کی خواہش پر۔

اسی بارے میں