افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ مستعفی

Image caption رحمت اللہ نبیل گذشتہ پانچ برس سے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے

افغانستان کی خفیہ ایجنسی دی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

اس بات کا اعلان جمعرات کو رحمت اللہ نبیل کے دفتر سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک خط میں کیا گیا۔

قندھار جھڑپوں میں ’46 افراد ہلاک‘

قندھار میں پولیس چوکی پر حملہ، سات اہلکار ہلاک

بی بی سی افغان سروس کے داؤد عظمی کے مطابق رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں کہا ’ان پر آپ (افغان صدر) کی جانب سے اس عہدے کو چھوڑنے کا بے انتہا دباؤ ہے اور میں حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرتا ہوں۔‘

رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ حکومت کی چند پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ رحمت اللہ نبیل گذشتہ پانچ برس سے این ڈی ایس کے سربراہ تھے۔

اطلاعات کے مطابق رحمت اللہ نبیل کو صدر اشرف غنی کی پاکستان کے بارے میں پالیسیوں سے اختلاف تھا۔

خبر رساں ادارے روئیٹز کے مطابق رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران صدر اشرف غنی کی جانب سے ان پر عائد کی جانے والے پابندیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

واضح رہے کہ رحمت اللہ نبیل کا استعفی طالبان کی جانب سے حالیہ مہینوں کے دوران قندوز شہر پر قبضے اور منگل کو قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں سے کم 46 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں