چین سے تشدد پر قابو پانے اور خفیہ جیلیں بند کرنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمیٹی نے دوران حراست قیدیوں کی اموات اور ذمہ داروں کے احتساب میں کوتاہی پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے

اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے عدم تشدد نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قید افراد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو روکے اور تمام خفیہ جیلیں بند کرے۔

کمیٹی نے چین سے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں وکلا اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی بند کیا جائے۔

خفیہ راز افشا کرنے کا الزام، صحافی کی سزا برقرار

یہ رپورٹ چین کے ایک بڑے وفد کے ساتھ ملک کے گذشتہ ماہ کے ریکارڈ سے متعلق پوچھ گچھ کرنے کے بعد جاری کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں کمیٹی نے دوران حراست قیدیوں کی اموات اور ذمہ داروں کے احتساب میں کوتاہی پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس جولائی سے اب تک دو سو وکلا کو حکام نے حراست میں لیا جن میں سے کم از کم 25 تاحال جیل میں ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’چین وکلا کو سزائیں دینے کا عمل بند کرے۔‘

اقوام متحدہ کی یہ دس رکنی کمیٹی باقاعدگی کے ساتھ ان 156 ممالک کے ریکارڈ کا جائزہ لیتی ہے جنھوں نے تشدد کے خلاف بین الاقوامی معاہدے کی تصدیق کی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں تفتیش کاروں نے چین کے قوانین میں کچھ ترامیم کو سراہا بھی ہے، جن میں 2012 کی وہ ترمیم بھی شامل ہے جس میں مجرموں سے تشدد کے ذریعے اعتراف حاصل کرنے کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی کے ایک اعلٰی تفتیش کار جارج توگوشی نے میڈیا کویہ بھی بتایا کہ ’ کبھی کبھار نظریےاور عمل میں کافی فرق ہوتاہے۔‘

رپورٹ کے مطابق ’ کمیٹی کو مستقل ملنے والی ان رپورٹوں پر سنگین خدشات ہیں جن میں اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ ابھی بھی عدالتی نظام میں مجرموں سے تشدد اور برا برتاؤ روا رکھاجاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی گذشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح چین میں مجرموں کو بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں، مکے اور لاتیں ماری جاتی ہیں، جوتوں اور پانی سے بھری ہوئی بوتلوں سے مارا جاتا ہے، انھیں سونےنہیں دیا جاتا اور لوہے کی کرسیوں پر تکلیف دہ حالت میں گھنٹوں باندھ کر رکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں