’داؤد ابراہیم کے ہوٹل میں کمپیوٹر سینٹر کھلے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ashwin Aghor
Image caption یہ دوسرا موقع ہے کہ ممبئی میں داؤد ابراہیم کی جائیداد کی نیلامی ہوئی ہے

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں انڈر ورلڈ کے مفرور سرغنہ داؤد ابراہیم کے نیلام کیے گئے اثاثوں میں ہوٹل ’دہلی ذائقہ‘ بھی شامل ہے۔

یہ ہوٹل سینیئر صحافی ایس بالا کرشنن کی حب الوطن تحریک تنظیم نے چار کروڑ 28 لاکھ روپے کی بولی لگا کر خریدا جبکہ اس کی کم سے کم قیمت ایک کروڑ 18 لاکھ بھارتی روپے رکھی گئی تھی۔

ممبئی میں داؤد ابراہیم کی جائیداد نیلام

بی بی سی ہندی سے بات چیت میں بالاكرشنن نے بتایا، ’ابھی یہ ہوٹل بند ہے اور ہم اس میں کوئی کاروباری سرگرمی نہیں چلائیں گے۔‘

ان کی منصوبہ بندی یہاں اشفاق اللہ خاں کی یاد میں ایک کمپیوٹر سینٹر کھولنے کی ہے۔

بالا کرشنن نے کہا، ’ہم یہاں اردو بازار کے بچوں کے لیے کمپیوٹر سینٹر کھولیں گے اور یہاں سے خواتین کو قانونی مدد دیں گے۔ ہم اشفاق اللہ خان کے نام پر ہی سینٹر کھول رہے ہیں کیونکہ ہندو مسلم اتحاد میں ان کا ایک بڑا نام ہے۔‘

اس سوال پر کہ داؤد ابراہیم کی جائیداد خریدنے کا خیال انھیں کیوں آیا، بالا کرشنن نے کہا کہ ’جب حکومت نے نیلامی کا اعلان کیا تو داؤد کے خوف سے لوگ سامنے آنے سے ڈرے ہوئے تھے۔ دو بار یہی ہوا. تیسری بار ہم نے ہمت کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ashwin Aghor
Image caption ڈر نہیں لگا. اگر ڈر لگا ہوتا تو یہ سب کرتا ہی نہیں: بالا کرشنن

وہ کہتے ہیں، ’ہم نے سوچا کہ ملک سے دور بیٹھ کر ایک انسان یہاں حکومت چلا رہا ہے۔ اگر داؤد کی جانب سے فون آتا کہ اس نیلامی میں آپ حصہ مت لیں تو یہ 120 کروڑ ہم وطنوں کے لیے شرم کی بات ہوتی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اسی لیے ہم نے جائیداد خریدنے کا فیصلہ کیا اور خوش قسمتی کی بات ہے کہ جو ہم نے بولی لگائی اس میں کامیاب رہے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ داؤد ابراہیم کی جائیداد نیلام کی گئی ہو اور گذشتہ نیلامی میں خریدی کئی ایک جائیداد کے خریدار کو اب تک اس کا قبضہ نہیں ملا ہے۔

اس پر بالا کرشنن کہتے ہیں، ’ہمارا مقصد یہاں سماجی کام شروع کرنے کا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی دقت نہیں آئے گی۔ جب سے نیلامی کی خبر آئی ہے اردو بازار سے لوگوں کے حمایت میں فون آ رہے ہیں۔‘

بالا کرشنن کے مطابق انھیں داؤد ابراہیم کی جانب سے بھی فون آیا تھا، جس کی معلومات انہوں نے کرائم برانچ کو دی تھیں جس کے بعد ان کے گھر پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’ڈر نہیں لگا. اگر ڈر لگا ہوتا تو یہ سب کرتا ہی نہیں۔‘

اسی بارے میں