امریکی ’ویزے‘ پر ایرانی کیوں پریشان؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کے ’ویزا ویور پروگرام‘ کے تحت 38 ممالک کے شہری جن میں زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے، اس وقت ویزا کی درخواست دیے بغیر امریکہ جاسکتے ہیں

امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ملک میں بغیر ویزے کے داخلے کے عمل کو سخت بنانے کے حق میں ووٹ دینے سے گھنٹوں پہلے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے والے ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر اس بل کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آزادی کے لیے ایرانی خواتین کی جدوجہد

ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے محدود قدم اٹھائے: اقوام متحدہ

امریکہ کی جانب سے یہ قدم اس لیے اُٹھایا گیا ہے تاکہ اس طرح کے لوگوں کو روکا جا سکے جنھوں نے پیرس پر حملہ کیا تھا اور جن کے پاس یورپی یونین کی شہریت تھی۔ یہ اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ میں داخل ہونے کے لیے ’ویزا ویور‘ (ویزا سے استثنیٰ) جیسی سہولت کا فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔

امریکہ کے ’ویزا ویور پروگرام‘ کے تحت 38 ممالک کے شہری جن میں زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے، اس وقت ویزا کی درخواست دیے بغیر امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

نئی قانون سازی میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ لوگ جو شام اور عراق جیسے’دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں‘ سے ہو کر آئے ہیں انھیں امریکہ میں داخل ہونے کے لیے ویزا چاہیے ہو گا۔

لیکن حتمی قانون سازی میں ایران اور سوڈان کو بھی اُن ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا جنھیں امریکہ میں رسائی حاصل کرنے کے لیے ویزے کی ضرورت ہوگی کیونکہ امریکہ ان ممالک کو ’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستیں‘ سمجھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران کا دورہ کرنے کے بعد یورپی یونین کے شہریوں کو امریکہ میں رسائی حاصل کرنے کے لیے ویزے کی درخواست دینے پڑے گی

ایچ آر 158 بل سے مُراد ہے کہ بہت سے یورپی یونین کے ممالک اور بقیہ 38 ریاستوں کے شہریوں کو اس پروگرام کے تحت امریکہ میں داخلے کے لیے ویزا کی درخواست دینی ہوگی جو تجارت یا چھٹی کی خاطر ایران کا سفر کرتے ہیں۔

اس پابندی کا اطلاق یورپی یونین، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی دوہری شہریت کے حامل اُن لاکھوں افراد پر بھی ہوتا ہے جن کا تعلق ان ممالک سے ہے۔

ایرانی امریکی انسانی حقوق کے ایک ممتاز سرگرم کارکن علی عابدی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’اس بار یہ لوگ ایرانیوں کو اُن جرائم کی سزا دے رہے ہیں جو شدت پسندوں نے کیے ہیں اور اصل میں جن کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کو اُس کی جائے پیدائش کی وجہ سے سزا نہیں دینی چاہیے۔‘

اس بل کے خلاف احتجاج منظم کرنے کے لیے سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بُک پر بھی لوگ سرگرم ہیں جن میں اس بل کی مخالفت کرنے والا اکاؤنٹStopHR15@ بھی شامل ہے۔

ملک کی نمایاں شہری حقوق کی تنظیموں میں سے ایک اے سی ایل یو نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ ایسی قانون سازی نہ کرے جس کی وجہ سے کئی گروہ قومیت کی بنیاد پر قربانی کا بکرا بن جائیں اور جس سے ملک کے اندر اور باہر لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا ملے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption اس بل کے خلاف احتجاج منظم کرنے کے لیے سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بُک پر بھی لوگوں کی سرگرمیاں سر انجام ہیں جن میں اس بل کی مخالفت کرنے والا اکاؤنٹStopHR15@ بھی شامل ہے

سماجی میڈیا پر بہت سے ایرانی نژاد امریکیوں نے اس بات پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف اُن لوگوں پر نافذ کی جائیں گی جو ایران کی جانب سفر کریں گے لیکن اُن پر نہیں جو سعودی عرب اور پاکستان سے ہوں گے۔

دیگر لوگوں نے اس قانون سازی کو صدارتی اُمیدوار بننے کے خواہشمند ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی بیان بازی کا تسلسل قرار دیا ہے۔

اس قانون سازی نے یورپی یونین کے لیے بھی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔

امریکہ کے لیے یورپی یونین کے سفیر ڈیوڈ او سولیون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی رُکن ریاستوں کے سفیروں نے کانگریس اور وائٹ ہاؤس کو بتایا ہے کہ ’موجودہ شکل میں یہ قانون ایسے نتائج لا سکتا ہے جن کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا۔‘

ڈیوڈ او سولیون کا کہنا ہے کہ اب بھی اُن کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون سازی کے التوا کے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

یورپی یونین اور امریکہ میں رہنے والے فکرمند ایرانی شہری امید کرتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ حالیہ جوہری معاہدے اور اگلے سال ایران پر عائد پابندیوں کے اٹھ جانے کے امکان کے بعد امریکی سینیٹرز اس بل کی حتمی شکل سے کم از کم ’ایران‘ کو نکال دیں گے۔

ایچ آر 158 کے خلاف لڑنے کے لیے بنائے گئے فیس بُک کے صفحے کی ایک سرکردہ رُکن شبنم ٹواسولی کے مطابق ’اس سے ایران کے لیے یورپی سیاحت اور کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں