رگبی کی شوقین کشمیری لڑکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi
Image caption تقریبا 150 کالجز اور اسکولوں میں رگبی تیزی سے مقبول ہو رہا کھیل ہے، کشمیر میں رگبی کا آغاز سنہ 2003 میں ہوا تھا اور اس وقت چند بچے ہی اس کھیل سے واقف تھے

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں میں رگبی کا کھیل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

یہاں رگبی کا آغاز سنہ 2003 میں ہوا تھا اور اس وقت چند بچے ہی اس کھیل سے واقف تھے۔

تاہم اب کشمیر اور جموں میں چار ہزار بچے ایسے ہیں جو رگبی کھیلتے ہیں اور ان میں لڑکیوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔

گذشتہ تین سال میں ریاستی سطح پر کئی رگبی میچ کھیلنے والی 13 سالہ ارتقی ایوب کو بھی آغاز میں اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا لیکن جب کشمیر میں بہت سے لوگ رگبی سے جڑے تو ان کی بھی دلچسپی بڑھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi
Image caption گذشتہ تین سال میں ریاستی سطح پر کئی رگبی میچ کھیلنے والی 13 سالہ ارتقی ایوب کو بھی آغاز میں اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا

ارتقی اس بات سے بہت خوش ہیں کہ کشمیر میں لڑکیاں اس کھیل میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتی ہوں کہ کشمیر کی لڑکیاں کھیل کے میدان میں آگے آئیں اور دنیا کو دکھائیں کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ کشمیر کی لڑکیاں بہت ہنرمند ہیں اور ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔‘

18 سالہ افرا الطاف گزشتہ ایک سال سے رگبی کھیل رہی ہیں۔ وہ اس سے پہلے بیڈمنٹن کھیلتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’جب میں نے دیکھا کہ کشمیر میں لڑکیاں بھی رگبی کھیلتی ہیں تو میں بھی اس میں آ گئی۔‘

وہ کہتی ہیں ’پہلے یہاں لوگوں میں یہ سوچ تھی کہ لڑکیاں کھیل کے میدان میں نہیں آ سکتی ہیں، لیکن ہم نے دکھا دیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔‘

چھ ماہ سے رگبی کھیل رہیں 17 سالہ مہک کہتی ہیں ’میں چھ ماہ قبل سری نگر کے اس میدان میں اپنی دوست کے ساتھ رگبی میچ دیکھنے آئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ یہاں بہت ساری لڑکیاں رگبی کھیل رہی ہیں، جس کے بعد میرے اندر بھی اس کھیل کو کھیلنے کا شوق جاگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi
Image caption 81 سالہ افرا الطاف گزشتہ ایک سال سے رگبی کھیل رہی ہیں، وہ اس سے پہلے بیڈمنٹن کھیلتی تھیں

کشمیر کے کچھ لڑکوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی رگبی کھیلا ہے۔ 20 سال کے اشفاق احمد لون سنہ 2012 سے رگبی کھیل رہے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے ایک بین الاقوامی اور چار قومی سطح کے رگبی میچ کھیلے ہیں۔

اشفاق کہتے ہیں ’تین برس قبل تک رگبی میں اتنی تعداد میں بچے نہیں آتے تھے جتنے آج آتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’آپ اس کھیل میں بچوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میرے اپنے علاقے ذانا کوٹ میں 100 سے زیادہ بچے ہر روز میرے ساتھ رگبی کی مشق کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi

کشمیر رگبی ایسوسی ایشن کے منتظم اور کوچ اقبال احمد کے مطابق کھیل میں کشمیری بچوں کی بڑی تعداد میں شامل ہونے کی وجہ کشمیر کے حالات بہتر ہونا ہے۔

اقبال کہتے ہیں ’کشمیر میں گذشتہ 25 سال کے خراب حالات کی وجہ سے بچے، خاص طور پر لڑکیاں، باہر نہیں آ پاتی تھیں۔ روز روز کی ہڑتال اور کرفیو سے یہاں کا نوجوان گھروں میں قید ہو گیا تھا۔ اب حالات بہتر ہوئے تو بچے بھی نام روشن کر رہے ہیں۔ کشمیر کا ایک رگبی کھلاڑی اس وقت انگلینڈ میں بھی کھیلتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi
Image caption 17سالہ مہک کہتی ہیں کہ وہ چھ ماہ قبل سری نگر کے اس میدان میں اپنی دوست کے ساتھ رگبی میچ دیکھنے آئی تھی اور پھر اس کھیل میں دلچسپی پیدا ہوگئی

لڑکیوں کی بہترین کارکردگی کے بارے میں اقبال کا کہنا ہے ’15 سال کے بعد کشمیر کی لڑکیوں کی ٹیم نے اسی برس کیرالہ میں ہوئے نیشنل گیمز میں حصہ لیا جبکہ لڑکے اس میچ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے۔‘

یہ پوچھنے پر کہ آخر رگبی کا کھیل اتنی جلدی مقبول کیسے ہوگیا، وہ کہتے ہیں ’کشمیر ایک طویل انتہا پسندی کے سائے میں رہا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ جب لڑکیوں نے اس کھیل میں قدم رکھنا شروع کیا تو لوگ اس کے بارے میں جاننے لگے۔‘

وہ بتاتے ہیں ’ہمیں اس کے لیے کافی محنت کرنی پڑی۔ ابھی تک 200 سے زیادہ لڑکیوں نے قومی سطح پر کھیلا بھی ہے۔ لیکن ایک شکایت بھی ہے کہ حکومت نے ابھی تک رگبی کھیلنے کے لیے الگ سے کوئی میدان مہیا نہیں کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bakshi

اسی بارے میں