چین کےشہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے مستقل سکونت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تار کین وطن شہروں میں مستقل سکونت کے لیے درخواستیں اس صورت حال میں درج کروا سکیں گے اگر وہ اپنے رہائشی شہر میں چھ ماہ رہنے کے بعد وہاں پر اپنی ملازمت، تعلیم اور رہائش گاہ کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں

چین نے حالیہ دہائیوں میں ملک کے دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقل ہونے والے لاکھوں افراد کو مستقل سکونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ایک کروڑ سے زیادہ چینی شہریوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ

چین: ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی ختم کرنے کا اعلان

مستقل سکونت سے مراد ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو اُن کے گاؤں کے بجائے اب صحت اور تعلیم جیسی عوامی خدمات اپنے رہائشی علاقوں میں فراہم کی جائیں گی۔

یہ افراد اپنے رہائشی شہر میں چھ ماہ رہنے کے بعد وہاں اپنی ملازمت، تعلیم اور رہائش گاہ کا ثبوت پیش کر نے کی صورت میں ان خدمات کے حصول کے لیے درخواستیں درج کروا سکتے ہیں۔

عالمی بینک کی پیش گوئی ہے کہ سنہ 2030 تک چینی آبادی سے 70 فیصد لوگ شہروں میں منتقل ہو جائیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق چھ کروڑ 10 لاکھ بچوں کو ان کے والدین دیہی علاقوں میں چھوڑ کر شہر کی جانب ملازمت کے لیے سفر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غیر درج شدہ تار کین وطنوں کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلا لینے کی اجازت نہیں ہے

جو لوگ اپنے بچوں کو شہر لے کر جا سکتے ہیں وہ انھیں صرف غیر درج شدہ سکولوں میں داخل کروا سکتے ہیں جو اکثر مشکوک معیار کے ہوتے ہیں۔

ملک کے یہ نئے قوانین یکم جنوری سنہ 2016 سے نافذ کیے جائیں گے لیکن ان کا اطلاق دہاڑی پر کام کرنے والوں پر نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ ملک کے انفرادی شہروں کو ان رہائشیوں کے لیے اپنی مرضی کے قوانین قائم کرنے کے اختیارات فراہم کیے جائیں گے۔

بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں میں مزید نقل مکانی کو روکنے کے لیے زیادہ سخت قوانین نافذ کرنے کے امکان ہیں۔

بی بی سی ایشیا کی تجزیہ کار جل مکگورنگ کہتی ہیں کہ چین کے رجسٹریشن کے نظام میں یہ تازہ ترین اصلاحات تار کین وطن کی پریشانی اور سماجی استحکام قائم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں