بھارت: جنسی زیادتیوں کے الزام میں تین اساتذہ معطل

Image caption طالبات کا الزام ہے کہ ایس آر ایف ٹی آئی کا کیمپس ان کے لیے محفوظ نہیں ہے

بھارت کے شہر کولکتہ کے ایک ادارے میں طالبات کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے الزام میں تین اساتذہ معطل کر دیے گئے ہیں۔

یہ واقعہ بھارت کے معروف ہدایت کار ستیہ جیت رے کے نام پر قائم ادارے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں پیش آیا ہے۔

ان اساتذہ کے خلاف زبانی اور تحریری شکایات کے بعد یہ اقدام کیے گئے ہیں جبکہ انسٹی ٹیوٹ نے شکایات کی جانچ کے لیے ایک اندرونی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ایس آر ایف ٹی آئی کے ڈین نيلوتپل مجمدار نے اساتذہ کی معطلی کی تصدیق کی ہے۔

نيلوتپل نے بتایا: ’ہم کیمپس میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بہتر تعلقات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس معاملے میں شکایات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ تینوں اساتذہ کو خط کے ذریعے تحقیقات کے دوران کیمپس سے دور رہنے کے لیے کہا گيا ہے۔‘

Image caption طالبات کا الزام ہے کہ کئی اساتذہ ایسے بھی ہیں جو طالب علموں کو چھیڑ چھاڑ کے لیے اکساتے رہتے ہیں

جنسی استحصال اور تشدد کی روز افزوں شکایات کے بعد قائم کی جانے والی کمیٹی نے حال ہی میں تمام طالبات کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

اس میٹنگ میں شرکت کرنے والی ایک طالبہ نے نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بی بی سی کے نمائندے پی ایم تیواری کو بتایا: ’ہم سے اساتذہ کے خلاف شکایات کے بارے میں بات کی گئی اور سارے معاملے کو پوشیدہ رکھنے اور کارروائی کیے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔‘

ادارے میں مجموعی طور پر 30 طالبات ہیں۔ ایک دوسری طالبہ کا الزام ہے کہ ’اداکاری سکھانے کے بہانے کئی استاد غلط طریقے سے جسم کے مختلف حصوں کو چھوتے ہیں۔ یہی نہیں، وہ جسم اور جنسیت کے متعلق فقرے بھی کستے ہیں۔‘

میٹنگ میں شریک طالبات نے بہت سے اساتذہ کی شکایتیں کیں لیکن سب سے زیادہ شکایتیں تین اساتذہ کے خلاف آئیں۔ اس کے بعد انھیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Image caption ادارے کی سطح پر معطل کیے جانے والے اساتذہ کے خلاف تحقیقات جاری ہیں

تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ پتل محمود کہتی ہیں: ’جانچ جاری ہے اور ہم انسٹی ٹیوٹ کو اپنی رپورٹ سونپنے سے قبل اس معاملے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

طالبات کا الزام ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کا کیمپس ان کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ کئی اساتذہ ایسے بھی ہیں جو طالب علموں کو چھیڑ چھاڑ کے لیے اکساتے رہتے ہیں۔

گذشتہ دنوں احاطے میں ایک پارٹی کے دوران ایک طالب علم نے ایک طالبہ کو زبردستی چوم لیا تھا۔

اسی طرح ایک طالب علم نے اپنے فیس بک صفحے پر ایک طالبہ کی تصویر ڈال دی تھی۔ ایک طالبہ نے بتایا: ’اس طرح کے معاملات میں استاد بھی لڑکوں کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔‘

اسی بارے میں