’صاف فضا میں سانس لینے کے الگ پیسے‘

Image caption چین کے اہم بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک قرار دی گئی ہے

مشرقی چین میں ایک ریستوران اپنے گاہکوں سے ’صاف فضا‘ میں بیٹھنے کے لیے رقم وصول کرتا ہوا پایا گیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق جیانگسو صوبے کے شہر ژانگجیاگینگ میں قائم اس ریستوران میں کھانا کھانے والے گاہکوں سے بل میں اضافی ایک یوان لیا جاتا تھا اور یہ رقم عمارت کی اندرونی فضا کی صفائی کی مد میں لی جاتی تھی۔

بیجنگ میں دھند اور گرد و غبار کے بادل، ریڈ الرٹ جاری

فضائی آلودگی پر قابو پانے کےلیے چین کو قرضہ

چین میں حالیہ ہفتوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک قرار دی گئی ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں دھند اور گرد و غبار کے بادل چھانے کی وجہ سے حدِ نگاہ 100 میٹر رہ گئی تھی۔

شنہوا کے مطابق ریستوران کے مالکان نے حال ہی میں فضا کے معیار کو بہتر اور صاف کرنے کے لیے ایک ایئر فلٹریشن نظام نصب کیا تھا اور وہ گاہکوں کو آگاہ کیے بغیر ان سے پیسے وصول کر کے اس کی قیمت چکا رہے تھے۔

لیکن ناراض گاہکوں کی شکایات ملنے کے بعد مقامی حکام نے اس عمل کو روکنے کے لیے مداخلت کرتے ہوئے مالکان سے کہا کہ وہ غیرقانونی طریقے سے پیسے وصول کر رہے تھے۔

ایک مقامی اہلکار نے شنہوا کو بتایا کہ ریستوران کے گاہکوں نے صاف فضا میں سانس لینے کی درخواست نہیں کی تھی اس لیے وہ اس کے پیسے دینے کے ذمہ دار نہیں تھے۔

جہاں پر متعلقہ ریستوران کے کئی گاہکوں کو صاف فضا میں بیٹھنے پر پیسے دینے سے اعتراض تھا وہاں دوسری طرف سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس عمل کا خیر مقدم کیا ہے۔

چینی ٹوئٹر ’ویبو‘ پر ایک شخص نے کہا کہ ’میں یہ فیس دینے کو تیار ہوں!‘۔

اس کے علاوہ ایک دیگر شخص نے کہا کہ وہ صاف فضا میں سانس لینے کے لیے پیسے دینے پر اتفاق کرتے ہیں۔

ایک صارف نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو ملک میں فضائی آلودگی کی خطرناک سطح سے نمٹنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کرنے چاہییں۔

البتہ کچھ لوگوں نے ریستوران کی جانب سے پیسہ وصولی کے طریقے پر تنقید کی ہے۔

ایک صارف نے لکھا: ’پیسے دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے پیسے وصول کرنے سے پہلے گاہکوں کو آکاہ نہیں کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے اجازت بھی نہیں لی تھی۔‘

اسی بارے میں