پاکستان سے دوریاں ترقی کی راہ میں حائل تھیں: سشما سوراج

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایوان بالا میں شور شرابے کے باوجود اپنے حالیہ دورہ پاکستان پر بیان دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

پیر کے روز ایوان بالا میں جوں ہی انھوں نے اپنے دورہ پاکستان کے متعلق بیان کا آغاز کیا تو حزب اختلاف نے شور مچا کر انھیں ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی آواز مشکل سے ہی سنی جا رہی تھی تاہم انھوں نے شور شرابے کے باوجود اپنا بیان جاری رکھا۔

پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کے فیصلے کا خیرمقدم

’سب سے اہم افغانستان کی بھارتی بازاروں تک سڑک سے رسائی‘

تعلقات کو بہتر بنانے اور بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہوں: سشما

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ کن حالات میں اسلام آباد کا دورہ کیا گیا اور وہاں کیا ہوا۔

سشما سوراج نے کہا کہ ’بھارت کی پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش رہی ہے۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی جامع مذاکرات سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور یہ دونوں ممالک کے رہنماؤں اور عوام کی خواہش بھی ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حائل ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہم نے ممبئی حملے کا معاملہ اٹھایا اور پاکستان سے اس میں شامل لوگوں کو بھارت کے حوالے کیے جانے کی بات کہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دنوں سشما ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئی تھیں

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو خطے میں امن اور ترقی کی نئی شروعات کے طور پر دیکھتا ہے۔‘

سشما سوراج نے کہا: ’حکومت ملکی سلامتی کے ساتھ پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن ماحول کے فروغ اور تعاون کے رشتے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔‘

ان کہنا تھا کہ ’بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں دوریاں خطے میں امن اور ترقی کی راہ میں حائل تھیں۔‘

لیکن شور شرابے کے درمیان راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا کو مقامی وقت کے مطابق 12 بجے تک ملتوی کر دیا گيا اور پھر اسے دوبارہ ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اب وہ دوپہر دو بجے لوک سبھا یعنی ایوان زیریں میں اپنے پاکستانی دورے کے بارے میں بیان دیں گی۔

خیال رہے کہ راجیہ سبھا گذشتہ چند دنوں کے درمیان کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے تعطل کا شکار رہی ہے۔

کانگریس نے پیر کو کیرالہ، پنجاب اور آسام کے معاملے پر پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption راہل گاندھی نے حکومت کو کئی معاملوں پر تنقید کا نشانہ بنایا

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ آسام کے دورے کے دوران ہندو سخت گیر تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں نے انھیں ایک مندر میں جانے سے روکا۔

کانگریس کے نائب صدر نے الزام لگایا کہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کو اس پروگرام میں جانے سے روکا جا رہا ہے اور پنجاب میں معصوم لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اور دلتوں کو مارا جا رہا ہے۔

انھوں نے ان تین واقعات کے بارے میں کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سوچ کا نتیجہ ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا: ’یہ ان کے کام کرنے کا طریقہ ہے، ایک کانگریسی وزیر اعلیٰ کو پروگرام میں جانے سے روکو، مندر جانے سے روکو اور دلتوں کو مارو۔ کیرالہ، آسام، پنجاب اور پورے ملک کے لوگوں کو یہ قبول نہیں۔ حکومت کو کام کرنے کا اپنا طریقہ بدلنا ہو گا۔‘

اسی بارے میں