آلودگی کم کرنے کے لیے دہلی میں ڈیزل گاڑیوں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی میں آلودگی کی سطح میں شدید اضافہ ہوا ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی میں آلودگی کم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں یکم مارچ سے ڈیزل گاڑیوں کے رجسٹریشن پر پابندی لگا دی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے ٹویٹ کے مطابق اس کا اطلاق دہلی اور اس سے ملحق این سی آر کے علاقوں پر ہو گا۔

’دہلی گیس چیمبر بن گیا ہے‘

دہلی کی آلودگی کا حل، ’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘

عدالت عظمیٰ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں یہ پابندی 2000 ہزار سی سی سے زیادہ صلاحیت والی ڈیزل ایس یو وی اور دیگر گاڑیوں پر لگائی ہے۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے والی كمرشل گاڑیوں پر لگنے والے گرین ٹیکس کو بڑھا کر دوگنا کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال اکتوبر میں ہی سپریم کورٹ نے کمرشل گاڑیوں پر گرین ٹیکس لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت عظمیٰ نے ٹریفک پولیس کو ماسک دیے جانے کی بات بھی کہی ہے

اس کے علاوہ عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ صرف 2005 کے بعد کے رجسٹریشن والے ٹرک ہی دہلی کے علاقے میں داخل ہو سکتے ہیں، اس سے پہلے کے نہیں۔

عدالت عظمیٰ نے دہلی سے گزرنے والے ٹرکوں کی دہلی آمد پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ دہلی میں چلنے والی ڈیزل ٹیکسیوں کو سی این جی میں تبدیل جائے اور اس کے لیے عدالت نے 31 مارچ تک کی مہلت دی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے آلودگی کم کرنے کے لیے سڑک پر کم گاڑیاں کرنے کے لیے ایک دن طاق عدد اور دوسرے دن جفت عدد کی ذاتی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کا خیال پیش کیا تھا۔

اس طاق اور جفت نمبروں کا تجربہ یکم جنوری سے کیا جانا ہے جس کی سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر مخالفت نظر آئی ہے۔

اسی بارے میں