’مودی جی بیٹی پال کر دیکھیں تب درد جانیں گے‘

Image caption خط میں یہ لکھا کہ آپ اپنے من کی بات پوری عوام کو سناتے ہیں لیکن نربھیہ کے والدین کا درد آپ کو لگتا نہیں ہے؟ ہم روتے ہیں اور آپ دھاڑتے ہیں

بھارتی دارالحکومت دہلی کی ایک چلتی بس میں جس نربھییہ نامی لڑکی کی گینگ ریپ اور تشدد کے بعد موت واقع ہوگئی تھی اس کے والدین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کو پیش آیا تھا۔

اس موقع پر بی بی سی ایک خصوصی ملاقات میں لڑکی کے والد بدری ناتھ نے یہ باتیں کہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ایک دن رات کو 11 بجے مجھے اپنی بیٹی کی تکلیف یاد آگئي۔ صفدرجنگ (ہسپتال) کا ایک ایسا (واقعہ) جسے ہم نے دیکھا تھا وہ مجھے کچھ یاد آیا۔‘

’مجھے کچھ ایسا عجیب سا محسوس ہوا کہ میں نے قلم کاغذ لیا اور وزیر اعظم کو اسی وقت خط لکھا۔ اور دوسرے روز خط میل کر دیا۔‘

اس خط میں ہم نے یہ لکھا کہ آپ اپنے من کی بات پوری عوام کو سناتے ہیں لیکن نربھیہ کے والدین کا درد آپ کو لگتا نہیں ہے؟ ہم روتے ہیں اور آپ دھاڑتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کہیے کہ آج کے بعد خواتین پر ہم کوئی ظلم و ستم برداشت نہیں کریں گے اور نا ایسا کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھارت کا سب سے طاقتور مراسلہ ہے

’آپ ایک بیٹی کو پال پوس کر تو دیکھیے کہ بیٹی کا درد ہوتا کیسا ہے؟ ہماری بیٹی کو انصاف چاہیے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔‘

بدری کہتے ہیں کہ ان کے خط کا یہ جواب تو آیا کہ ان کی شکایت انہیں مل چکی ہے لیکن اس کے بعد کوئی جواب نہیں آیا۔

وہ کہتے ہیں ’وزیر اعظم سے اگر ہم آج کچھ کہنا چاہیں تو ہم صرف یہ کہیں گے کہ آپ کے من کی بات تو عوام سنتی ہے۔۔۔ تو اسی طرح اپنے من کی بات میں خواتین کے تحفظ کی بات کیجیے اور اس کے لیے سب کی حوصلہ افزائی کیجیے۔‘

’آپ کہیے کہ آج کے بعد خواتین پر ہم کوئی ظلم و ستم برداشت نہیں کریں گے اور نا ایسا کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھارت کا سب سے طاقتور مراسلہ ہے۔‘

بدری ناتھ کہتے ہیں کہ اگر وزيراعظم ایک بار ایسی بات کہہ دیں گے تو انہیں پورا یقین ہے کہ فرق اسی دن سے پڑنا شروع ہو جائےگا اور خواتین محفوظ ہو جائيں گی۔‘

Image caption جو اس کو (نربھیہ) تکلیف ملی، ہمارے سامنے اس کی ایک ایک سانس جس طرح سے ختم ہو گئی، وہی تمام چیزیں نظروں میں گھومتی رہتی ہیں۔ وہی یاد آتی ہیں

اس موقع پر نربھیہ کی والدہ آشا دیوی نے بھی بات چيت میں انصاف کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا ’ہماری زندگی انہیں تین برسوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے، ہم انہیں تین سالوں میں گھومتے ہیں۔ جو اس کو (نربھیہ) تکلیف ملی، ہمارے سامنے اس کی ایک ایک سانس جس طرح سے ختم ہو گئی، وہی تمام چیزیں نظروں میں گھومتی رہتی ہیں۔ وہی یاد آتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’وہ تو مرگئی لیکن ہم روز مرتے ہیں، روز جیتے ہیں۔‘

ایک یہی دماغ میں رہتا ہے کہ کم از کم ان (مجرموں کو) سزا مل جاتی۔’میں یہ مان کر نہیں بیٹھ سکتی کہ یہ بس ایک واقعہ تھا اوو جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو ہم نے اس سے کیا سیکھا۔ جتنی تکلیف ہم کو ہے، اتنی ہی تکلیف ان ماں باپ کو بھی ہوتی ہوگی جن کی بچّیاں مر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے تو عدالتیں ہیں، حکومت ہے، لیکن کس لیے ہیں؟‘

ایک اجتماع سے بات کرتے ہوئے شانتی دیوی نے اپنی بیٹی کا اصل نام بھی ظاہر کر دیا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ اس کا نام جوتی سنگھ پانڈے تھا۔ شرم تو یہ بدترین جرم کرنے والوں کو آنی چاہیے۔‘

جوتی سنگھ کے ریپ اور ہلاکت کے بعد بھارت میں عورتوں کے خلاف جنسی تشدد پر کھل کر بات کی جانے لگی۔ بڑے پیمانے پر احتجاج مظاہرے ہوئے۔

بھارت میں سال 2014 میں بھی 36000 ریپ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 2096 دہلی میں ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں