برطانوی یونیورسٹیوں میں لڑکیاں ریکارڈ تعداد میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر طالبات کا مقابلہ کرنے لے لیے مرد طالب علم بھی میدان میں آئیں تو 36 ہزار مزید طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا ہوگا

برطانیہ کے تعلیمی سروے یو کاس کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں ملک کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے افراد میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔

یونیورسٹیوں میں طلبہ اور طالبات کے داخلے میں یہ فرق ابھی تک ریکارڈ کی جانے والی تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔

اور اگر طالبات کا مقابلہ کرنے کے لیے طلبہ بھی میدان میں آئیں تو 36 ہزار مزید طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا ہو گا۔

یو کاس ایڈمشن سروے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال خزاں کے موسم میں 532,300 طالب علموں نے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی کا آغاز کیا، جو ایک ریکارڈ ہے۔

لیکن اس تعداد کے بارے میں ملک کے مختلف علاقوں میں تفریق دیکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جنوب مغربی یا شمال مشرقی انگلینڈ کے مقابلے میں لندن کے نوجوانوں میں یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا رحجان 40 فیصد زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک کی مشہور یونیورسٹیوں میں گذشتہ سال کے مقابلےمیں اس سال نسبتا کم نمبروں کے ساتھ بھی داخلہ دے دیا گیا

یو کاس کے سالانہ اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہےکہ 2015 میں خزاں کے موسم میں یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے۔

داخلوں کی دوڑ

محدود تعداد میں داخلوں پر سے پابندی ہٹانے کے بعد یونیورسٹیوں میں زیادہ داخلے دینے کی دوڑ شروع ہوگئی، اور ملک کی مشہور یونیورسٹیوں میں گذشتہ سال کے مقابلےمیں اس سال نسبتاً کم نمبروں کے ساتھ بھی داخلہ دے دیا گیا۔

ان یونیورسٹیوں میں اس سال اے لیولز یا مساوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد داخلہ لینے والے افراد کو گذشتہ سال کے مقابلے میں تین فیصد کم نمبروں پر بھی داخلہ دے دیا گیا۔ جبکہ چار سال پہلے داخلے کا معیار اس سے 11 فیصد زیادہ تھا۔

اس کے علاوہ طالب علموں کو ان کے نتائج سے قطع نظر غیر مشروط داخلے دینے کی تعداد میں بھی اس سال تیزی آئی ہے۔ یہ تعداد کل دیے جانے والے داخلوں کا ڈھائی فیصد ہے۔

سالانہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والوں کی تعداد گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان افراد میں برطانوی شہریوں کے علاوہ دیگر ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس دوڑ میں شمالی آئرلینڈ 8.42 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ ویلز کا نمبر 8.35 کے ساتھ سب سے آخری ہے۔

سروے میں سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی تعداد کا ریکارڈ شامل نہیں ہے۔

سروے میں داخلہ لینے والے افراد کی خصوصیات کے فرق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ داخلہ لینے والوں میں زیادہ تعداد خواتین ، لندن کے رہائشیوں، خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں اور غیر سفید فام اقلیتی گروہوں کی ہے۔

اس کے مطابق یونیورسٹی میں داخلہ لینے والوں میں سفید فام لوگوں کی تعداد آبادی میں اپنے تناسب کے حساب سے سب سے کم ہے، اور ان میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے سفید فام مردوں کی تعداد اور بھی کم ہے۔

لندن سب سے آگے

سروے کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے حصول کے رحجان میں علاقائی تفریق بھی نمایاں ہے۔ مثال کے طور برطانیہ کے کسی بھی علاقے کے مقابلے میں لندن میں رہے والے 18 سالہ نوجوان بنیادی تعلیم کے بعد یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔

جنوب مغربی اور شمال مشرقی انگلینڈ میں یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے 18 سالہ نوجوانوں کی تعداد لندن کے مقابلے میں 49 فیصد کم ہے۔

اس ادارے کے سربراہ مارک کرنوک کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کے رحجان میں امیر اور غریب کا فرق کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن دیگر فرق بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اس سے پہلے ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طالب علموں میں مردوں اور خواتین کے نمایاں اور بڑھتے ہوئے فرق کو واضح کیا تھا، لیکن اس سال یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فرق میں نوجوان مردوں خاص طور پر سفید فام نوجوان مردوں کی تعداد سب سے کم ہے۔‘

برطانیہ کے وزیر جامعات جو جانسن نے اس سال ریکارڈ نمبر میں داخلہ لینے والوں کو خوش آمدید کہا ہے، جن میں غریب گھرانوں کے افراد بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا: ’محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی تعداد اس سال کل تعداد کا ایک تہائی ہے، لیکن ہمیں اس تعداد کو مزید بڑھانا ہے۔

’حکومت چاہتی ہے کہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے خواہش مند محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعدا کو 2020 تک دگنا کر دیا جائے۔‘

اسی بارے میں