راہبہ مدر ٹریسا کا دوسرا معجزہ بھی تسلیم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2003 میں مدر ٹریسا کو روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا جو سینٹ بننے کی جانب پہلا قدم ہے

کيتھولک مسيحي پيشوا پوپ فرانسس نے رومن کیتھولک راہبہ مدر ٹریسا کے دوسرے معجزے کو بھی تسلیم کر لیا ہے جس کے بعد اگلے سال ان کو سینٹ کا درجہ دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اطالوی کیتھولک بشپ کانفرنس کے اخبار اوے نِیرے کے مطابق مدر ٹریسا سے منسوب ایک معجزے میں ایک برازیلی شخص دماغ میں کئی رسولیاں ہونے کے باوجود ناقابل توجیہہ طور پر صحت یاب ہوگئے تھے۔

’مدر ٹریسا کے باقیات البانیہ کو نہیں دے سکتے‘

مدر ٹریسا: ولایت کی جانب پہلا قدم

سنہ 2003 میں مدر ٹریسا کو روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا جو سینٹ بننے کی جانب پہلا قدم ہے۔

غریبوں کی مدد کے لیے ان کے کام کو سراہتے ہوئے انھیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔ وہ 1997 میں فوت ہوئی تھیں۔

بھارت کے شہر کولکتہ کی کچی آبادیوں میں مدر ٹریسا کی خدمات پہ انھیں بہت سراہا جاتا ہے۔

اوے نِیرے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ اگلے سال ستمبر کے مہینے میں روم میں انھیں سینٹ کا درجہ دے دیا جائے گا۔

روحانیت کے درجے پر فائز ہونے کے لیے کیتھولک چرچ کی جانب سے کم از کم ایک معـجزہ تسلیم کیا جانا ضروری ہے جبکہ سینٹ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا عمل شروع ہونے کے لیے کم از کم دو معجزوں کوتسلیم کیا جانا ضروری ہے۔

سنہ 2003 میں پوپ جان پال دوم نے ان سے منسوب ایک معجزے کو مستند تسلیم کیا تھا جس کے بعد انھیں روحانیت کا درجہ دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’سینٹ آف دی گٹر‘ کے نام سے پہچانی جانے والی مدر ٹریسا نے اپنے کام سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا لی تھی

پوپ نے فیصلہ دیا تھا کہ پیٹ کی رسولی میں مبتلا ایک ہندوستانی عورت کی شفا خدا کے ساتھ مدر ٹریسا کی ملکوتی مداخلت کا نتیجہ تھی۔

دوسری جانب بھارت کے استدلال پسند حلقوں کی جانب سے اس دعوے پر اعتراض کیا گیا تھا۔

مدر ٹریسا کا اصل نام ایگنس گون کابوہیک یو تھا اور وہ 1910 میں میسیڈونیا کے شہر سکوپئے میں پیدا ہوئی تھیں۔ کولکتہ میں غریب اور بیمار لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنی زندگی وقف کرتے ہوئے 1949 میں مدر ٹریسا نے مشنریز آف چیریٹی کاآغاز کیا تھا۔

’سینٹ آف دی گٹر‘ کے نام سے پہچانی جانے والی مدر ٹریسا نے اپنے کام سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا لی تھی۔

دوسری جانب ان کے ناقدین ان پر آمروں کے ساتھ روابط ہونے اور سخت گیر کیتھولک ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں