’ہماری وطن پرستی کا ایک بار پھر امتحان ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption القاعدہ جیسی تنظیم کے ساتھ منسلک ہونے کے الزام میں دو افراد کی گرفتاری پر سنبھل کے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی سے تقریباً 150 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع دیپا سرائے کے دو افراد محمد آصف اور ظفر مسعود کو القاعدہ سے منسلک ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گيا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ديپاسرائے میں ہی القاعدہ کے جنوبی ایشیا کے سربراہ مولانا عاصم عمر عرف ثناءالحق کا گھر بھی موجود ہے۔

تینوں ملزمان کے گھر دیپا سرائے کی قدیم ترین مسجد کے گرد 100 میٹر کے دائرے میں ہیں۔ مسجد کے پاس ہی محمد آصف کا گھر ہے جہاں ان کے والد اور بھائی میڈیا کے لوگوں کے درمیان گھرے ہیں۔

آصف کے والد عطا الرحمن کو دہلی پولیس کے دعووں پر یقین نہیں ہے۔

دہلی پولیس کے سپیشل سیل کا دعویٰ ہے کہ ديپاسرائے کے رہنے والے محمد آصف، بھارت میں القاعدہ کے ’ماڈیول‘ بنانے والوں میں سے ایک ہیں۔ مگر آصف کے والد عطا الرحمن اور بھائی صادق پولیس کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

Image caption عاصف کے والد عطاء الرحمن پولیس کے دعوے سے متفق نہیں ہیں

آصف کے والد کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا پرانی چیزیں دہلی سے خرید کر لاتا اور انھیں اپنے محلے میں فروخت کرتا تھا۔ اس سے پہلے وہ اکاؤنٹنٹ کی نوکری کرتا تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’وہ دہلی گیا ہوا تھا۔ ایک دن کے بعد محلے کے لوگوں نے آکر بتایا کہ ٹی وی پر بتایا جا رہا ہے کہ آصف القاعدہ سے منسلک ہے۔ ہمیں یقین نہیں آيا۔ پھر میرے چھوٹے بیٹے صادق نے پڑوس میں جاکر ٹی وی دیکھا ہم پر بجلی گر گئی۔ ہماری پوری نسل میں کسی پر جرم کرنے کا کبھی کوئی الزام نہیں لگا۔‘

مگر دہلی پولیس کے سپیشل سیل کے کمشنر اروند دیپ نے بی بی سی کو بتایا کہ آصف نے سکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ القاعدہ کی بھارت کی یونٹ کا ’امیر‘ ہے۔

اروند دیپ کا یہ بھی کہنا تھا: ’آصف ایران کے راستے افغانستان پہنچا اور پھر شمالی وزیرستان میں اسے تربیت بھی دی گئی۔ یہیں پر آصف کی ملاقات مولانا عاصم عمر عرف ثناء الحق سے ہوئی جو ديپاسرائے میں اس پڑوسی ہوا کرتے تھے۔ چونکہ ثناء الحق بر صغیر میں القاعدہ کا سربراہ بن چکا تھا اس لیے اس نے اپنے پڑوسی آصف کو بھارت کا امیر بنا دیا۔‘

مگر آصف کے بھائی صادق پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آصف کبھی ایران نہیں گیا۔

Image caption صادق اپنے بھائی آصف کے ساتھ

وہ کہتے ہیں: ’ہم سب صدمے میں ہیں۔ ایک سیدھے سادے انسان کو جہادی اور مجاہد بتا دیا گیا اور الظواہری اور القاعدہ سے جوڑ دیا گیا۔ اللہ بہتر جانے ان لوگوں کو کہاں سے ایسی رپورٹ ملی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر یہ جھوٹ ہے تو ہم عدالت سے انصاف کی توقع کریں گے۔ اور اللہ نہ کرے اگر یہ سچ ہے تو پھر ہم حکومت سے یہ التجا کریں گے کہ انھیں پھانسی دے دی جائے۔‘

پاس میں ہی ظفر مسعود کا بھی گھر ہے۔ ظفر کو بھی القاعدہ کے لیے رقم جمع کرنے کے الزام میں مرادآباد سے گرفتار کیا گیا۔

سنہ 2002 میں ظفر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت جن طالب علموں کے ساتھ وہ رہا کرتے تھے ان پر دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ہونے کے الزام لگے تھے۔

ظفر کا نام بھی پولیس کی ایف آئی آر میں آیا مگر عدالت نے انھیں بے قصور قرار دیا تھا۔ تقریباً 13 سال بعد دوبارہ انھیں پولیس کے نشانے پر لائے جانے کی وجہ سے ديپاسرائے کے لوگوں میں ناراضگی ہے۔

Image caption دیپ سرائے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی وطن پرستی کا امتحان لیا جا رہا ہے

ديپاسرائے میں ہونے والی گرفتاریوں سے مقامی انتظامیہ اور پولیس بھی حرکت میں آ گئی ہے۔ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اتل سکسینہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے اب ان لوگوں کی فہرست بنانی شروع کر دی ہے جو کئی سالوں سے لاپتہ ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو علاقے سے باہر گئے اور ان کا کوئی سراغ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم اس علاقے میں موجود فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جن پر ہمیں شک ہیں، ان سے ہم پوچھ گچھ بھی کر رہے ہیں۔‘

دیپا سرائے کے محمد عثمان کہتے ہیں: ’سنہ 1947 میں بھی یہاں کا کوئی مسلمان پاکستان نہیں گیا۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لیے اپنا خون بہایا۔ سنبھل سے کبھی مسلم لیگ کو ووٹ نہیں ملا تھا۔ آج ہماری وطن پرستي کا امتحان ہے۔ ہم پہلے بھی پاس ہوئے تھے، آج بھی پاس ہوں گے۔‘

اسی بارے میں