بنگلہ دیش فیکٹری حادثہ، مزید گرفتاریوں کا حکم

رانا پلازا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رانا پلازا کی عمارت گرنے سے 11 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے دوسال قبل منہدم ہونے والی فیکٹری کے مقدمے کے حوالے سے 24 افراد کی گرفتاری کا حکم دیا ہے تاکہ وہ قتل کے الزامات کا سامنا کر سکیں۔

وہ ان 44 سے زیادہ افراد کے علاوہ ہیں جن پر مقدمات چلائے گئے ہیں۔

کپڑے بنانے والی یہ فیکٹری ایک عمارت رانا پلازا میں قائم تھی جس کے منہدم ہونے سے تقریباً 11 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رانا پلازا کے مالک سہیل رانا نے پہلے فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن اب وہ پولیس کی حراست میں ہیں، جبکہ دوسرے کئی ضمانت پر ہیں۔

کچھ ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے عمارت کے گرنے سے ایک دن پہلے مزدوروں کو عمارت میں داخل نہ ہونے کی ہدایت کو نظر انداز کیا تھا۔

یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی سانحہ قرار دیا جاتا ہے اور اس حادثے کے بعد عالمی سطح پر رائج کاروباری طرز عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

ملزمان میں فیکٹری کے مالکان بھی شامل ہیں جن پر ابتدا میں قتل خطا کا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن حادثے کی سنگینی کے پیش نظر الزامات کو قتل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں