’مجھ پر کرو نا کیس‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ وہ دہلی کے وزیر اعلی سمیت چھ لوگوں پر ہتک عزت کا مقدمہ کریں گے

دہلی میں سیاسی رسہ کشی عدالت کے در پر کھڑی نظر آ رہی ہے۔ پہلے کانگریس کے سربراہان سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں عدالت میں پیش ہونا پڑا اور اب مرکزی وزیر ارون جیٹلی پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ان الزامات کے جواب میں وزیر خزانہ اور دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن یعنی ڈي ڈی سی اے کے سابق چیئرمین ارون جیٹلی نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور پانچ دیگر افراد کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مودی حکومت انتقام میں الجھ گئی ہے؟

گاندھی خاندان کی کرپشن الزامات پر عدالت میں پیشی

انھوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیجریوال کے علاوہ کمار وشواس، سنجے سنگھ، آسوتوش، راگھو چڈھا اور دیپک واجپئی کے خلاف دہلی کی عدالت میں مقدمہ کریں گے۔

جیٹلی کے اس فیصلے کے بعد عام آدمی پارٹی نے جارحانہ رخ اپنایا لیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان سنجے سنگھ نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی ایک نہیں ہزار بار جیٹلی کو بدعنوان کہے گی کیونکہ ان کے خلاف صرف الزام ہی نہیں بہت سارے شواہد بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption کیرتی آزاد کے ٹویٹ جس میں انھوں نے ارون جیٹلی سے ہتک عزت کے مقدمے کی اپیل کی ہے

سنجے سنگھ نے کہا:جیٹلی کے ڈي ڈی سی اے کے چیئرمین کے دور میں سینکڑوں کروڑوں کے گھپلے ہوئے ہیں۔ فرضی کمپنیوں کے نام پر کروڑوں کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ وہ جو بھی مقدمہ کرنا چاہتے ہیں وہ کریں۔ میں ارون جیٹلی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کروں گا۔

دوسری طرف کمار وشواس نے بھی ٹویٹ کے ذریعے ارون جیٹلی کا مذاق اڑایا ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا: جن کا اپنا لیپ ٹاپ 16 ہزار ماہانہ کرایہ کے ہوں وہ دوسرے کے آفس میں ٹوٹی چونچ والے 'طوطے' نہیں بھیجا کرتے۔

کمار وشواس کا اشارہ بی جے پی ایم پی اور سابق کرکٹر کیرتی آزاد کے ذریعے لگائے جانے والے الزام کی جانب تھا اور وہ بھارتی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو طوتے کہہ رہے تھے جس نے کیجریوال کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔

اس ضمن میں کیرتی آزاد کے ٹویٹس شاید بی جے پی کو مزید پریشان کر سکتے ہیں۔

کیرتی آزاد نے اپنی ٹویٹس میں لکھا ہے: عزیز ارون جیٹلی ہم پر ہتک عزت کا کیس فائل کر رہے ہو نا؟ پلیز کرو نا۔ میرا نام کیوں ہٹا دیا۔ آپ نے تو میرے لیٹرز دکھائے تھے۔ مجھ پر کرو نا کیس۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سابق کرکٹر اور بی جے پی کے رہنما کیرتی آزاد نے اتوار کی شام دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن میں گھپلے کے الزامات لگائے

اس سے پہلے کیرتی آزاد نے اتوار کی شام دہلی کے پریس کلب میں صحافیوں کو ایک ویڈیو اور آڈیو سی ڈی دکھائی جس میں انھوں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان کی تعمیر نو سے منسلک ادائیگی میں شامل تقریبا 14 کمپنیوں کے نام اور پتوں کے غلط اور فرضی ہونے کے الزامات لگائے۔

دراصل جیٹلی سنہ 2006 سے سنہ 2013 تک ڈی ڈی سی کے سربراہ تھے اور عام آدمی پارٹی کا الزام ہے کہ تبھی سے گھپلے جاری ہیں۔

جیٹلی اپنی ہی پارٹی کے ایم پی کیرتی آزاد اور عام آدمی پارٹی کے الزامات کے نرغے میں نظر آ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں کرکٹ سے متعلق بدعنوانی پر بہت سارے سوال اٹھائے گئے ہیں اور آئی پی ایل کی آمد کے بعد سے بدعنوانی کے بہت سے معاملے سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں