ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے 20 ٹن پتھر پہنچ گیا

Image caption ایودھیا میں اس سے قبل بھی اینٹ اور پتھر لائے جانے کا سلسلہ نظر آتا ہے

بھارت کے شمالی شہر ایودھیا میں متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے 20 ٹن پتھر وہاں کے کارسیوک پورم میں لائے گئے ہیں۔

یہ پتھر دو ٹرکوں میں بھارت کی مغربی ریاست راجستھان سے لائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ریاست اتر پردیش میں قائم الہ آباد ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں بابری مسجد - رام مندر کے قدیمی تنازعے پر فیصلہ سنایا تھا جس کے مطابق جس زمین پر بابری مسجد موجود تھی، اسے ہندوؤں اور مسلمانوں کی درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

فی الحال یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور متنازع جگہ پر کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔

تاہم بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ہندوؤں کے ایک رہنما مہنت نرتيہ گوپال داس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کا وقت آ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بعض ہندو تنظیموں کا دعوی ہے کہ جہاں بابری مسجد تھی وہی مقام ان کے دیوتا رام کی جائے پیدائش ہے

ہندو تنظیم وی ایچ پی کے کارسیوک پورم کے انچارج شرد شرما نے صحافی اتل چندرا کو بتایا: ’مندر کی تعمیر کے کام میں بہت سارے پتھر کی ضرورت ہے۔ ابھی 20 ٹن پتھر آئے ہیں، لیکن تقریبا دو لاکھ ٹن پتھر چاہییں۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ لوگوں کی جانب سے ہی پتھروں کا عطیہ آئے گا۔ جیسے ہی حکومت کی طرف سے حکم ملے گا، ہم تعمیری کام شروع کر دیں گے۔‘

رواں سال اشوک سنگھل کی موت سے پہلے ان کی صدارت میں 14 جون کو وشو ہندو پریشد کے رہنما بورڈ کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مندر کو پیسوں سے زیادہ پتھروں کا عطیہ چاہیے۔

خیال رہے کہ چھ دسمبرسنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے پہلے رام مندر کے لیے مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر مہم چلائی گئی تھی اور انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت عظمی کے فیصلے کے مطابق متنازع مقام پر کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے لیکن سخت گیر ہندو تنظیمیں وہاں مندر کی تعمیر کی تیاری میں مصروف ہیں

وی ایچ پی کے ماہرین کے مطابق راجستھان میں کچھ کانیں بند ہو رہی تھیں اسی لیے فوری طور پر پتھر منگوانے کا کام کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے پتھر آتے رہے ہیں۔ سنہ 2007 تک پتھر مسلسل لائے جا رہے تھے لیکن راجستھان حکومت کی جانب سے کانوں کے قوانین تبدیلی کی وجہ سے پتھر لانے کا سلسلہ رک گيا تھا۔

پتھر لائے جانے کے اس تازہ واقعے پر انتظامیہ خاموش ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک ایودھیا میں امن رہتا ہے تب تک وہ کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں