بگرام میں چھ غیر ملکی فوجی ہلاک، سنگین کا محاصرہ جاری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان میں شدت پسندوں نے ایک طرف تو ہلمند صوبے میں ضلع سنگین کا محاصرہ کر رکھا ہے تو دوسری طرف پیر کو ملک کے مشرقی علاقے بگرام کے فوجی اڈے کے قریب ایک خود کش حملہ کر کے کم از کم چھ غیر ملکی فوجیوں کو ہلاک اور چھ کو زخمی کر دیا ہے۔

نیٹو افغانستان میں غیر ملکی فوج کی سربراہی کر رہا ہے۔ اس نے بگرام میں خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شہریت کے متعلق ابھی تک نہیں بتایا۔

دوسری طرف امریکی سفارت خانے کے مطابق کابل میں ایک امریکی شہری کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ادھر صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں طالبان نے ایک پولیس ہیڈ کوارٹرز کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام نے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جانے کی تصدیق کی ہے

بگرام میں افغانستان میں امریکی فوج کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ حملہ وہاں کے مقامی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے دن کو کیا گیا۔

ابھی تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار نے بظاہر موٹر سائیکل یا کوئی اور گاڑی استعمال کی تھی۔

کابل میں اتحادی فوج کے پبلک افیئرز کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ولیئم شوفنر نے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں اس نقصان پر بہت زیادہ افسوس ہے۔ ہماری دلی ہمدردیاں اس المناک واقعے میں متاثر ہونے والے افراد کے خاندانوں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔‘

بگرام پروان صوبے میں واقع ہے۔ وہاں کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں تین افغان پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایک بیان میں طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پورا ہلمند صوبہ طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے

دریں اثنا افغانستان کےصوبے ہلمند میں ضلع سنگین کے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضے کے لیے طالبان شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

پولیس کمانڈر محمد داؤد نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ وہ طالبان جنگجوؤں میں گھر چکے ہیں اور انھیں فوری طور پر کمک کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر مدد نہیں پہنچی تو وہ زیادہ دیر تک حملہ آوروں کو نہیں روک سکتے کیونکہ ان کے پاس گولہ بارود ختم ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ہلمند کے گورنر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پورا ہلمند صوبہ طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے۔

کمانڈر داؤد نے بی بی سی کے محفوظ زبیدہ کو بتایا کہ ’بازار بند ہیں۔ہم دو دنوں سے محصور ہیں۔ ہمارے اردگرد ہلاک شدگان اور زخمی لوگ پڑے ہیں۔ ہم نے دو دنوں سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ اگر اگلے گھنٹے تک مدد نہیں پہنچتی ہے تو ہمارے فوجیوں کو زندہ پکڑ لیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’پولیس ہیڈکوارٹر ہی ابھی ہمارے قبضے میں ہے اور ہمارے ساتھ نیشنل آرمی کے فوجی ہیں۔ ضلعی دفتر اور انٹلیجنس ڈائرکٹریٹ دشمنوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔‘

اس سے قبل ہلمند صوبے کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے فیس بک کے ذریعے ملک کے صدر اشرف غنی سے صوبہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں مدد مانگی تھی۔

سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک پر محمد جان رسول یار نے صدر غنی کو اپنے پیغام میں لکھا کہ گذشتہ دو دنوں سے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جا چکے ہیں۔

محمد جان نے صدر غنی کو متنبہ کیا تھا کہ صوبے پر طالبان کا قبضہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ صدر غنی کا عملہ ان کو درست اطلاعات فراہم نہیں کر رہا۔

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پیغام دینے کے لیے فیس بک مناسب ذریعہ نہیں ہے، محمد جان نے لکھا کہ ’ہلمند دشمنوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہ قندوز کی طرح نہیں ہے جہاں کارروائی کر کے علاقے کو دشمن سے واپس لے لیا جائے گا، یہاں ایسا کرنا ناممکن ہو گا۔‘

اسی بارے میں