’مندر کا کوئی کام ایودھیا میں نہیں ہو سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جیلانی نے وشو ہندو پریشد اور دیگر ہندو تنظیموں پر لوگوں میں اشتعال پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے

بھارتی ریاست اترپردیش کے معروف شہر ایودھیا میں ہندوؤں کی جانب سے رام مندر بنانے کے لیے 20 ٹن پتھر منگوانے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کی حکومت کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفرياب جیلانی نے اسے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے 20 ٹن پتھر پہنچ گیا

بابری مسجد کا ملبہ کب تک پڑا رہے گا؟

ظفرياب جیلانی نے بی بی سی کے نمائندے فیصل محمد علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2002 میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایودھیا میں متنازع 67 ایکڑ زمین پر کسی بھی مذہبی سرگرمی پر پابندی ہے اور یہاں کسی قسم کے سامان رکھنے کی بھی ممانعت ہے۔

ایسے میں وشو ہندو پریشد یا کوئی دوسری جماعت کچھ نہیں کر سکتی ہے۔

اتر پردیش کی حکومت کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل ظفرياب جیلانی نے کہا ہے کہ ’ہندو تنظیم ریاست اترپردیش میں سنہ 2017 میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے پیش نظر مندر کے مسئلے کو گرمانے کی کوشش کررہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سیکولر طاقتوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ سنہ 2017 کے انتخابات تک مندر کا کوئی کام ایودھیا میں نہیں ہو سکتا۔‘

Image caption ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے پہلے بھی پتھر آتے رہے ہیں

جیلانی نے کہا: ’اگر سماج وادي پارٹی کی حکومت خود کو سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کی پابند سمجھتی ہے تو اس احاطے میں کوئی بھی سرگرمی نہیں ہونے دے گی۔‘

وی ایچ پی کے مہنت نرتیہ گوپال داس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ’ایسے بیان پر ہونے والے رد عمل سے وہ ریاست کے ماحول کو گرمانا چاہتے ہیں تاکہ سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔‘

مہنت نرتیہ گوپال داس نے بیان دیا تھا کہ انھیں رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے اشارے مل رہے ہیں۔

جیلانی نے وشو ہندو پریشد اور دیگر تنظیموں پر لوگوں کو اکسانے کا الزام لگایا ہے۔

خیال رہے کہ چھ دسمبرسنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے پہلے رام مندر کے لیے مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر مہم چلائی گئی تھی اور انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں